انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 598 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 598

۵۹۸ کی قسم یہ لوگ ہرگز مومن نہیں رہیں گے جب تک تجھ سے فیصلہ نہ کرائیں۔اس نزاع کا جوان میں واقع ہو پھر نہ پائیں اپنے دلوں میں کچھ تنگی اس فیصلہ سے جو تو کرے اور اسے پورے طور پر قبول کریں۔ان آیات کو پڑھنے سے ہر ایک شخص معلوم کر سکتا ہے کہ اس جگہ یہ ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ منافقوں کی نسبت فرماتا ہے کہ یہ لوگ بجائے رسول سے فیصلہ چاہنے کے شیطانی باتوں کو مانتے ہیں حالانکہ ان کو تو یہ علم ہے کہ رسول کی باتوں کو قبول کریں مگر یہ ایسا نہیں کرتے ہیں جب کوئی تکلیف ہوتی ہے تب بھاگے آتے ہیں کہ حضور!قصور ہو گیا ہم نے غلطی کی کہ حضور کا حکم نہیں مانا اصل میں ہماری نیت نیک تھی۔لیکن ان کو تو یہ خیال کرنا چاہئے کہ ہم جو رسول بھیجتے ہیں اس کی غرض تو یہ ہوتی ہے کہ لوگ اس کی باتوں کو مانا کریں نہ کہ اس کے احکام کو رد کر دیا کریں مگر خیراگر غلطی بھی ہو جائے تو پھر توبہ کر لیں مگر مومن ہونے کی یہ شرط ہے کہ تیرا حکم بہرحال قبول کریں۔اب بتاؤ کہ ان آیات سے یہ نتیجہ نکالنا کہ نبی کسی اور کا متبع نہیں ہو سکتا کہاں تک جائز ہے۔یہاں تو یہ ذکر ہے کہ جس قوم کی طرف کوئی رسول آئے اسے اس کے احکام کو قبول کرنا چاہتے ہیں حضرت مسیح موعود کی صریح تشریح کے بعد اور قرآن کریم کے کھلے کھلے الفاظ کے ہوتے ہوئے لوگوں کو دھوکا دینادیانت کے خلاف ہے۔شاید کوئی شخص یہ کہ ہے کہ حضرت مسیح مو عودنے مسیح ناصری کے دوبارہ آنے کے خلاف بھی یہ بات پیش کی ہے کہ وہ مستقل نبی ہو کر اس امت کی اصلاح کے لئے کس طرح آسکتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے آپ نے یہ نہیں لکھا کہ وہ آنحضرتﷺ کا مطیع کیونکر ہو سکتا ہے بلکہ یہ لکھا ہے کہ اب امتی نبی کے سوا کسی اور نبی کے آنے میں آنحضرتﷺ کی ہتک ہے کیونکہ جس شخص نے نبوت کادرجہ آپ کی اطاعت میں نہیں پایا وہ امتی نہیں کہلا سکتا اور جب وہ مستقل نبی ہو اتو اس کا آپ ؐپر احسان ہو گا نہ کہ آپؐ کا اس پر احسان ہو گا اور مستقل نبی کے آنے سے ختم نبوت کی مہربھی ٹوٹ جاتی ہے کیونکہ غیرکاقدم در میان آجاتا ہے اسی طرح حضرت عیسیٰ کی بھی ہتک ہے کیونکہ اگر ان کو دوبارہ لایا جائے تو مستقل نبی کی حیثیت میں تو نہیں آ سکتے کیونکہ اس میں آنحضرت اﷺکی ہتک ہے اور امتی نبی وہ تب کہلا سکتے ہیں کہ نبیوں کے زمرہ سے جدا کر کے ان کو پہلے امتی بنایا جائے اور پھر دوبارہ نبوت پائیں اوراس میں ان کی ہتک ہے۔غرض کوئی صورت لو۔اس میں یا رسول اللہ اﷺکی ہتک ہوتی ہے یا خود حضرت مسیح کی۔اس لئے ان کا آنا جائز نہیں