انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 523 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 523

۵۲۳ پر نہیں کرتا۔ان معنوں کے رویے سب رسولوں پر اظہار على الغیب کا انعام ثابت ہوتا ہے نہ کہ بعض پر۔لیکن رسولوں کے سوا اور کسی پر اظہار على الغیب ہونے کی نفی ان معنوں کے رو سے بھی ثابت ہے پیں خواہ کوئی معنے کریں یہ بات ہرگز ثابت نہیں ہوتی کہ رسولوں کے سوا اظہار على الغیب کا انعام کسی اور پر بھی ہو سکتا ہے بلکہ یہی ثابت ہوتا ہے کہ ایسا نہیں ہو تاہیں اس جواب سے کوئی شخص اپنا پیچھا نہیں چھڑا سکتا کہ یہ کوئی ضروری نہیں کہ اظہار على الغیب صرف رسولوں کے لئے ہی ہو بلکہ جو شخص مسیح موعود کوئی نبی نہیں مانتا اسے بہرحال اللہ تعالی ٰپر با حضرت مسیح موعود پر اعتراض کرنا ہو گا۔ونعوذ باللہ من ذالک۔میں اس جگہ حضرت مسیح موعود کی ایک تحریر بھی نقل کر دیتا ہوں جس سے معلوم ہو جائے گاکہ حضرت مسیح موعود نے امور غیبیہ پر کثرت سے اطلاع پانے کا دعوی ٰکیا ہے یا نہیں تا ایسا نہ ہو کہ کوئی شخص یہی کہہ دے کہ حضرت مسیح موعود نے یہ دعوی ٰہی نہیں کیا۔اس لئے اس آیت سے استدلال کر ناہی جائز نہیں۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں:۔”خدا تعالیٰ جس کے ساتھ ایسا مکالمہ مخاطبہ کرے کہ جو بلحاظ کمیت و کیفیت دوسروں سے بہت بڑھ کر ہو اور اس میں بیشگوئیاں بھی کثرت سے ہوں۔اسے نبی کہتے ہیں۔اور یہ تعریف ہم پر صادق آتی ہے۔پس ہم نبی ہیں۔" (بدر نمبر ۹ جلد ۷،۵ مارچ ۱۹۰۸ء) ۷۔ساتویں دلیل یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود نے خود اپنے آپ کو نبی کے لفظ سےپکارا۔اگر آپ نبی نہ ہوتے تو کیوں اپنے آپ کو نبی اور رسول کرکے پکارتے۔جن لوگوں کا نام نبی رکھ دیا جاوے وہ اس طرح اپنے آپ کو نبی کہہ کر نہیں پکارا کرتے۔میں اس جگہ چند وہ حوالجات دیتا ہوں جن سے ثابت ہے کہ آپ نے اپنے آپ کو نبی کہا ہے۔اور اس بات کا بار ثبوت حضرت مسیح موعود کی نبوت کے منکرین پر ہو گا کہ وہ کسی اور بزرگ یا ولی کی تحریر سے بھی اس قسم کے الفاظ دکھادیں کہ وہ اپنی نسبت نبی کے الفاظ استعمال کیا کر تاہو۔حوالہ ا۔پگٹ جو انگلستان کا ایک جھوٹا مدعی نبوت تھا۔اس کے خلاف اشتہار لکھا۔اور اس کے آخر میں جہاں راقم مضمون کا نام لکھا جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود ؑنے یہ الفاظ لکھے۔The Prophet Mirza Ghulam Ahmad۔(1) ’’اس امت میں آنحضرت ﷺ کی پیروی کی برکت سے ہزار ہا اولیاء ہوئے ہیں۔اور ایک وہ بھی ہؤا جو امتی بھی ہے اور نبی بھی۔(حقیقۃ الوحی - روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۳۰ حاشیہ)