انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 34 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 34

۳۴ کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کا صیغہ رکھا ہے کیونکہ جماعت کے غرباء اور مساکین کا انتظام کرنا بھی خلیفہ کا کام ہے اور اس کے لئے روپیہ کی ضرورت ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے خود ہی اس کا بھی انتظام فرما دیا اور امراء پر زکوٰۃ مقرر فرمائی۔پس یاد رکھو کہ یزکیھم کے معنی ہوئے پاک کرے، اخلاص پیدا کرے اور ہر رنگ میں بڑھائے۔چہارم صدقات کا انتظام کر کے اصلاح کرے۔اب انجمن والے بھی بے شک بولیں کیونکہ ان امور کے انتظام انجمن کو چاہتے ہیں۔مگر باوجود اس کے بھی یہ انجمن کا کام نہیں بلکہ خلیفہ کا کام ہے۔اب تمہیں معلوم ہو گیا ہوگا کہ یہ سب باتیں اس کے نیچے ہیں اور یہ خیالی طور پر نہیں، ڈھکوسلہ کے رنگ میں نہیں بلکہ لغت اور صحابہؓ کے اقوال اِس کی تائید کرتے ہیں۔پس میں نے تمہیں وہ کام خلیفہ کے بتائے ہیں جو خدا تعالیٰ نے بیان کئے ہیں اور اس کی حقیقت لغت عرب اور صحابہؓ کے مسلّمہ معنوں کی رو سے بتائی ہے میرا کام اتنا ہے۔خدا تعالیٰ نے مجموعی اور یکجائی طور پر مجھے اس سے آگاہ کر دیا اور محض اپنے فضل سے سورۃ بقرہ کی کلید مجھے بتا دی۔میں اِس راز اور حقیقت کو آج سمجھا کہ تین سال پیشتر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت بجلی کی طرح میرے دل میں کیوں ڈالی؟ قبل از وقت میں اِس راز سے آگاہ نہیں ہو سکتا تھا مگر آج حقیقت کھلی کہ ارادۂ الٰہی میں یہ میرے ہی فرائض اور کام تھے اور ایک وقت آنے والا تھا کہ مجھے ان کی تکمیل کے لئے کھڑا کیا جانا تھا۔پس جب یہ ظاہر ہوچکا کہ خلیفہ کے کیا کام ہیں یا دوسرے لفظوں میں یہ کہو کہ میرے کیا فرائض ہیں تو اب سوال ہوتا ہے کہ ان کو کیونکر کرنا ہے؟ اور اسی میں مجھے تم سے مشورہ کرنا ہے۔مقاصدِ خلافت کی تکمیل کی کیا صورت ہویہ تو آپ کو معلوم ہوچکا کہ خلافت کا پہلا اور ضروری کام تبلیغ ہے اس لئے ہمیں سوچنا چاہیے کہ تبلیغ کی کیا صورتیں ہوں۔مگر میں ایک اور بات بھی تمہیں بتانا چاہتا ہوں اور یہ بات ابھی میرے دل میں ڈالی گئی ہے کہ خلافت کے یہ مقاصدِ اربعہ حضرت خلیفۃ المسیح کی وصیت میں بھی بیان کئے گئے ہیں۔خلیفۃ المسیح کی وصیت اسی کی تشریح ہےحضرت خلیفۃ المسیح نے اپنی وصیت میں اپنے جانشین کیلئے فرمایا۔متقی ہو، ہر دلعزیز ہو، قرآن و حدیث کا درس جاری رہے، عالم باعمل ہو۔اس میں یعلمھم الکتاب والحکمة