انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 497 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 497

۴۹۷ لئے وہ لفظ بنایا گیا ہے۔مثلا ًکہہ دیں کہ ہم نے ایک شیر دیکھا تو چونکہ اس فقرہ میں کوئی اور قرینہ ہیں جس سے یہ سمجھا جائے کہ شیر سے مرادشیر نہیں۔بلکہ کوئی اور شے ہے۔اس لئے اس جگہ شیر کے معنی اصلی شیر کے ہی کئے جائیں گے نہ مجازی شیر کے۔لیکن اگر کوئی ایسا قرینہ موجود ہو۔جس سے اصلی شیر ہونے کا ثبوت ملتا ہو۔تب تو مجازی شیر سمجھنا کسی طرح جائز ہی نہیں۔مثلا ًیہ کہیں کہ ہم جنگل میں گذر رہے تھے کہ اچانک ایک شیر نظر پڑا۔ہم تو بہت ہوشیار ہو گئے کہ اچانک حملہ نہ کر ہے۔لیکن وہ اپنی دم پھیلائے سو رہا تھا۔اور بالکل خیر گذری۔اب اس عبارت کو سن کر کسی شخص کے لئے جائز نہیں کہ کہہ دے کہ لغت کے لحاظ سے اس شیرسے مجازی شیر مراد ہے، کیونکہ حقیقت کے لئے تو اتنا ہی کافی ہے کہ بغیر قرینہ کے ہو۔اور جب قرینہ بھی ہو تو اسے مجاز کہہ ہی نہیں سکتے۔اسی طرح مثلا آگ ایک خاص شے کا نام ہے جو جلا دیتی ہے۔لیکن مجازا ًآگ کا لفظ دل کی تڑپ اور گھبراہٹ پر بھی بولا جاتا ہے۔اب اگر کوئی شخص تڑپ رہا ہے اور کہتا ہے کہ آگ لگ گئی۔آگ لگ گئی۔تو اس کے تڑپنے کے قرینہ سے ہم معلوم کر لیں گے کہ آگ سے اس کی مراد تڑپ اور بے قراری ہے۔لیکن اگر اگر زور کی آواز آئے۔کہ آگ لگ گئی۔تو اب یہ نہیں کہ لوگ اس آواز کو سن کر خاموش بیٹھے رہیں کہ مجازی آگ مراد ہے بلکہ فور اًاٹھ کر دیکھیں گے کہ کہاں آگ لگ گئی۔اور ایسا کیوں کریں گے۔اس لئے کہ اس آواز کے ساتھ کوئی ایسا قرینہ نہ تھا جس سے سمجھا جا تاکہ آگ سے مراد مجازی آگ ہے۔اسی طرح مثلاً کہیں کہ فلاں شخص کو جب ہم نے وہ بات کہی۔تو اس کے تن بدن کو آگ لگ گئی۔تو اس سے مراد اصل آگ نہ ہوگی۔بلکہ مجازی آگ مراد ہوگی۔کیونکہ بات سے آگ لگنے کا قرینہ بتا رہا ہے کہ یہ آگ اصل آگ نہیں۔لیکن اگر یہ کہیں کہ فلاں شخص کے کپڑوں کو آج آگ لگ گئی۔یا فلاں شخص آج آگ سے جل گیا۔تو اس کے یہ معنی نہ ہوں گئے کہ وہ غصہ سے جل گیایا غم سے جل گیا۔کیونکہ ایسا کوئی قرینہ نہیں جو بتائے کہ آگ سے اصل آگ مراد نہیں۔اور اگر یہ کہہ دیں کہ فلاں شخص کے ہاتھ میں مٹی کے تیل کی بو تل تھی کسی طرح اسے آگ لگ گئی۔اور وہ آدمی کئی جگہ سے جل گیا۔تو اب آگ کے معنی مجازی آگ کرنے کسی زبان میں جائز ہی نہیں۔غرض مجازی معنی لینے تبھی جائز ہوتے ہیں جب کوئی قرینہ موجود ہو۔لیکن حضرت مسیح موعودؑ کو شریعت کے روسے مجازی نبی قرار دینے کی کوئی وجہ نہیں معلوم ہوتی۔کیونکہ نہ صرف یہ کہ ایسا کوئی قرینہ موجود نہیں کہ جس سے آپ کا مجازی نبی ہونا ثابت ہو۔بلکہ اس کے بر خلاف ایسےقرینے موجود ہیں جو شریعت کے لحاظ سے آپ کو نبی ثابت کرتے ہیں لیکن جو باتیں