انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 484 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 484

۴۸۴ کرنے کے لئے تیار ہو جاؤ گے۔بادشاہ ظل اللہ کہلاتا ہے۔کیا اسے بھی اسی اصول کے ماتحت مارنے پر آمادہ ہو جاؤ گے۔کیا ظل کا لفظ صرف اس سایہ کے لئے ہی استعمال ہوتا ہے جو انسان یا درخت کا دھوپ کی وجہ سے زمین پر پڑتا ہے اگر نہیں تو پھر اس سایہ پر مسیح موعود کی نبوت کا قیاس کیوں کرتے ہو۔مسیح موعود تو خدا تعالیٰ کا برگزیدہ اور مقرب تھا۔اور ایک محبوب کی حیثیت رکھتا تھا۔اور آنحضرت ﷺ اسے اپنا وجود قرار دیتے ہیں۔اپنانام اور اس کا نام ایک بتاتے ہیں۔تم کسی ایسے ظل کی ہی ہتک کر کے بتادو جو ظاہر میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔یعنی کسی دنیاوی بادشاہ کے ملک میں اس کا ایک مجسمہ بنا کریا اس کی تصویر لے کراسے علی الاعلان جلادو- یا کسی افسر کے سامنے جا کر اس کے سایہ کو جوتیاں مارنے لگ جاؤ - ویکھو تو تمہارا کیا حال ہوتا ہے یا پاگل خانہ میں بھیجےجاؤ گے یا جیل خانہ میں ہندوستان میں ایسے کئی واقعات ہو چکے ہیں کہ بعض شریروں نے ملکہ معظمہ یا ملک ایڈورڈ ہفتم کے بت کی ہتک کی۔تو ان کو سزا دی گئی۔پس جب دنیاوی بادشاہوں اور افسروں کے ظل اور مجسموں کی جو بے جان ہیں اور اپنی کوئی حیثیت نہیں رکھتے تنگ کرنے پر سزا ملتی ہے تو کیوں خدا تعالیٰ کا مامور اور آنحضرت ﷺ کا ظل ہی ایسی حقیر شئےہے کہ اس کی جس طرح چاہو ہتک کرلو؟ کسی قسم کی سزا کا خوف نہیں۔کوئی کہتا ہے ظل کو جوتیاں مارنا جائز ہے کوئی کہتا ہے اسے پاخانہ میں پھینک دینا جائز ہے۔کیا خدا تعالیٰ کا خوف دل سے بالکل نکل گیا ہے کہ اس حد تک نوبت پہنچ گئی۔خوب یاد رکھو کہ اس عمل کے وہ معنی نہیں جو یہ لوگ خیال کرتے ہیں۔بلکہ اس عمل کے معنی صرف یہ ہیں کہ آپ نے سب کمالات آنحضرت ﷺ کی اتباع سے پائے ہیں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو اپنے جوشوں سے اندھے ہو کر مسیح موعود کی ہتک کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں سمجھ دے اور ان کی آنکھیں کھولے ناحق و باطل میں تمیز کر سکیں اور خدا تعالی ٰکا مقابلہ کر کے اپنے آپ کو تباہ کرلیں۔اللهم آمین۔مجازی نبی جو اصطلاحات میں نے اوپر ذکر کی ہیں ان کے علاوہ ایک اصطلاح اور بھی ہے جس کا ذکرمیں الگ کرنا چاہتا ہوں۔اور وه مجازی نبی کی اصطلاح ہے۔جناب مولوی صاحب نے اس اصطلاح پر خاص زور دیا ہے اور لکھتے ہیں کہ دیکھو حضرت مسیح موعود نے صاف لکھ دیا ہے کہ شتنت سمیت نبیا من اللہ علی طریق المجاز لا علی وجہ الحقیقہ\" (ترجمہ)۔اور میرا نام نبی اللہ کی طرف سےمجازی طور پر رکھا گیا ہے نہ حقیقی طور پر میں حیران ہوں جب میاں صاحب کے اس فقرہ کو پڑھتا