انوارالعلوم (جلد 2) — Page 458
۴۵۸ بیعت کی اور اس کے پر جلال کلام کو سنتے رہے وہ اس بات کو معلوم کرنے کے بعد بھی کہ جو طریق انہوں نے اختیار کیا ہے وہ نہ صرف یہ کہ مسیح موعود ؑکی ہتک کرنے والا ہے بلکہ آنحضرت ﷺ کی قوت فیضان کو بھی کمزور ثابت کرنے والا ہے اس طریق کو نہ چھوڑیں گے اور ضد پر قائم رہیں گے نہیں یہ نہیں ہو سکتا وہ کون ساشاگر د ہے جو اس بات کو معلوم کر کے بھی کہ اس کا تیر اس کے استاد کی چھاتی پر پڑتا ہے اور وہ کون سا بیٹا ہے جو یہ معلوم کر کے بھی کہ اس کی بندوق کا نشانہ اس کی ماں اور باپ دونوں ہیں اپنی کمان کو نیچے نہ کر لے گا۔اور اپنی بندوق کا رخ دوسری طرف نہ کردےکا یہ ممکن ہے کہ بعض لوگ کسی خطرناک گہرے ابتلاء میں پڑ گئے ہوں لیکن و ہ سینکڑوں آدمی جو اس وقت تک بعض ایسے خیالات پر قائم ہیں جن سے مسیح موعودؑ اور آنحضرت ﷺ کی ہتک ہوتی ہے ان سب کی نسبت میں ہر گز گمان نہیں کر سکتا کہ وہ صرف شرارت سے ایسا کرتے ہیں بلکہ ضرور ہے کہ اس مخالفت کا اصل باعث بہتوں کے لئے غلط فہمی او ر ناواقفیت ہو۔ہاں مبارک ہیں وہ جو صبح کو بھول کر شام کو پھر اپنے گھر واپس آگئے اور اپنے باپ کو چھوڑ کر پھر اس سے معافی خواہ ہوئے وہ ضرور ایک دن اپنی حالت پر غور کریں گے اور اپنی حالت پر زار زار روئیں گے جب ان کو معلوم ہو گا کہ ایک معمولی غلطی کی بناء پر وہ مسیح موعود کی تعلیم کے خلاف کرتے رہے ہیں وہ اس کے احکام اور اس کے کام کو پاؤں کے نیچے روندتے رہے وہ اس پر تیر چلاتے رہے جس نے ان کی طرف کبھی انگلی بھی نہ اٹھائی تھی وہ اس کی پگڑی اتارتے رہے جس نے ان کے سروں پر پگڑیاں رکھی تھیں وہ اس سے دشمنی کرتے رہے جو ان کی محبت میں چور تھا آج اگر مسیح موعودؑ دنیا پر پھر واپس آئے تو وہ اس انتظار و کو دیکھ کر کیا کہے کہ وہ غلطی جو میں نے دور کی تھی اسے پھر پھیلایا جا رہا ہے اور وہ بات جو میں نے خدا سے معلوم کر کے کہی تھی اسے رد کیا جا رہا ہے بیشک یہ ایک دردناک نظارہ ہو لیکن وَ رَبِّ محمد وه اپنے آقا کی طرح اس بات سے پاک ہے کہ اس پر دو موتیں آئیں خدائے تعالیٰ اس کے سلسلہ کو جاری رکھنے کے لئے خود سامان کرے گا اور جیسا کہ اس نے فرمایا ہے ولا بقى لك من المخزيات ذکرایعنی ان باتوں کو جو تیرے نام کے لئے دھبہ اور بد نام کن ہوں میں بالکل مٹادوں گا وہ ضرور اس بات کو جس میں اس کی ہتک ہوتی ہے مٹا دے گا۔اور خدائے تعالیٰ کا فعل خود ظاہر فرمائے گا کہ آیا مسیح موعودؑ کو نبی ماننے میں اس کی اور آنحضرت ﷺ کی ہتک ہے یا عزت۔اور اب بھی وہ اپنے فعل سے ظاہر کر رہا ہے اور روز بروز گم گشتوں کو کھینچ کھینچ کر لا رہا ہے اور پراگندہ جماعت پھر اکٹھی ہو رہی ہے اور گو اب دو فیصدی احمدی بھی