انوارالعلوم (جلد 2) — Page 456
۴۵۶ کی ایک تعریف کر دی ہے تو نہایت نادان ہے وہ جواب بھی ٹھوکر کھاتا ہے جب سورج چڑھ گیا تو پھر ٹھوکریں کھانا آنکھوں والوں کا کام نہیں۔پس اپنی آنکھیں کھولو اور دیکھو کہ سورج نصف النہار میں آگیا۔اللہ تعالیٰ اپنی عظمت کا اظہار کر رہا ہے اور اپنی طاقت کا جلوہ دکھاتا ہے اس کے جلال کا اقبال کرو اور اس کی قرنا کا جواب دو جو اس کانبی مسیح موعودؑ ہے جس نے اپنے سب کمالات آنحضرت ﷺاکے طفیل سے اور آپ کے واسطہ سے پائے۔پس کیاہی مبارک ہے وہ جس نے اس قدر فيضان کا دریا بہادیا۔اور کیاہی مبارک ہے وہ جس نے اس فیضان کو اپنے اندر لے لیا۔اور اس قدر وسیع ہو اکہ ظلّلی طور پر کل کمالات محمدیؐہ ہے کو پالیا۔آہ!کیاہی قابل افسوس اور جائے تعجب و حیرت ہے یہ امر کہ وہ غلطی جو اللہ تعالیٰ نے مسیح موعودؑ کی معرفت دور کروائی تھی او ر و ہ حقیقت جو اس کے ذریعے دنیا پر روشن کی تھی اسی غلطی کا مرتکب احمدی جماعت کا ایک حصہ ہو رہا ہے اور اسی حقیقت کا منکر اس کے پیروؤں کا ایک گروہ ہو رہا ہے۔نادان مسلمانوں کا خیال تھا کہ نبی کے لئے یہ شرط ہے کہ وہ کوئی نئی شریعت لائے یا پہلےاحکام میں سے کچھ منسوخ کرے یا بلا واسطہ نبوت پائے لیکن اللہ تعالی ٰنے مسیح موعودؑ کےذر یعہ اس غلطی کو دور کروایا اور بتایا کہ یہ تحریف قرآن کریم میں تو نہیں۔قرآن کریم تو یہ فرماتا ہے کہ فلا يظهر على غيبه أحدا إلا من ار تضی من رسول وہ پھر تم کیوں نبی کے لئے ایسی شرائط مقرر کرتے ہو جو اس کے لئے خدائے تعالیٰ نے مقرر نہیں کیں اس نے قرآن کریم سے ثابت کیا کہ نبوت کی وہی تعریف ہے جو وہ کرتا ہے اس نے اعلان کیا کہ خدا کے حکم کے ماتحت میں یہ تعریف کرتا ہوں اس نے اس تعریف کے قبول نہ کرنے والوں کو ڈانٹا اور زجر کیا اور کہا کہ تم اپنی نادانی اور جہالت سے نبی کی غلط تعریف کر رہے ہو نبی کے لئے شریعت لانا ضروری نہیں نبوت تو ایک موہبت ہے جس میں شریعت لانے نہ لانے کا کوئی دخل نہیں اور کہا کہ : ”نبی اس کو کہتے ہیں جو خدا کے الہام سے بکثرت آئندہ کی خبریں دے مگر ہمارے مخالف مسلمان مکالمہ الہٰیہ کے قائل ہیں لیکن اپنی نادانی سے ایسے مکالمات کو جو بکثرت پیشگوئیوں پر مشتمل ہوں نبوت کے نام سے موسوم نہیں کرتے۔‘‘ چشمه معرفت صفحہ ۱۸۱٬۱۸۰ روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۱۸۹) لیکن افسوس کہ باوجود اس کے مسیح موعود نے اس باطل اور بلا دلیل عقیدہ کی تردید کر دی جس میں اس وقت کے مسلمانوں کا ایک کثیر حصہ مبتلاء تھا لیکن خود مسیح موعودؑ کی جماعت میں سے