انوارالعلوم (جلد 2) — Page 451
ا۴۵ الہٰی نبوت رکھتا ہوں“۔(تتمه حقیقۃ: الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۵۰۳) پس جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو خود بتلایا کہ نبوت شریعت لانے یا بلا واسطہ نبی ہونے کانام نہیں بلکہ امور غیبیہ پر کثرت سے اطلاع پانے کا نام ہے اور ایسے ہی شخص کا نام اللہ تعالیٰ جب نبی رکھتا ہے تو وہ نبی ہوتا ہے نہ محدث۔تو آپ نے اپنے پہلے خیال کو ترک کر دیا۔اور ۱۹۰۱ء کے بعد پھر کبھی نہیں لکھا کہ میں نبی نہیں ہوں۔ہاں جب اپنے آپ کو نبی کہا تو یہ بھی لکھتے رہے کہ میں فلاں قسم کا نبی نہیں بلکہ فلاں قسم کانبی ہوں۔میں اس جگہ ایک اور حوالہ بھی دے دیتا ہوں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بر خلاف اس عقیدہ کے جو حضرت مسیح موعود ؑنے ۱۸۹۹ء میں نبی کے متعلق ظاہر فرمایا۔۱۹۰۱ء کے بعد آپ کا یہی مذہب تھا کہ نبی کے لئے شریعت جد ید ہ کا لانا کوئی شرط نہیں اور نہ یہ کہ کسی اور نبی کا متبع نہ ہو چنانچہ آپ فرماتے ہیں : "نبی کے حقیقی معنوں پر غور نہیں کی گئی۔نبی کے معنی صرف یہ ہیں کہ خدا سے بذریعہ وحی خبر پانے والا ہو اور شرف مکالمہ اور مخاطبه الہٰیہ سے مشرف ہو۔شریعت کا لانا اس کےلئے ضروری نہیں اور نہ یہ ضروری ہے کہ صاحب شریعت رسول کا متبع نہ ہو پس ایک امتی کو ایسانبی قرار دینے سے کوئی محذور لازم نہیں آتا" (براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۳۰۲) مذکورہ بالا حوالہ جات سے بالکل بین ہو جاتا ہے کہ 1901ء سے پہلے آپ نبی کی اورتعریف کرتے تھے اور ۱۹۰۱ء اور اس کے بعد اور تعریف کرتے رہے اور یہ تغیر اپنی رائےاور قیاس سے نہ تھا بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے تھا اور قرآن کریم کی تصریحات کے مطابق تھاپس جب تک کہ آپ نبی کی یہ تعریف کرتے رہے کہ اس کے لئے شریعت جديده لانا یابلاواسطہ نبوت پانا ضروری ہے آپ اپنے نبی ہونے سے انکار کرتے رہے اور جب یہ معلوم پڑا کہ یہ باتیں شرائط نبوت سے نہیں ہیں اور جو شرائط نبوت ہیں وہ سب آپ میں پائی جاتی ہیں تو آپ نے اپنے نبی ہونے کا اقرار کیا۔اور یہ تعریفوں کا اختلاف ہی تھا جس کی وجہ سے ۱۹۰۱ء سے پہلے آپ اپنی نبوت کو جزئی اور ناقص قرار دیتے رہے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ایک طرف تو آپ کو جو درجہ دیا گیا تھا اسے آپ نبوت نہ سمجھتے تھے اور دوسری طرف خدا تعالی ٰآپ کو نبی قرار دیتا تھا اس لئے