انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 434 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 434

العلوم جلد ۲ ۴۳۴ امتی نہیں تھے بلکہ اطاعت آنحضرت ﷺسے آزاد تھے یا یہ کہ آپ کی نبوت سے مرادامورغیبیہ پر کثرت سے اطلاع پانا نہیں۔بلکہ اور کچھ ہے۔تو بیشک یہ حوالہ جات میرے خلاف استعمال ہوسکتے تھے۔لیکن جبکہ میرا مذ ہب یہی ہے کہ آپ غیرتشر یعی امتی نبی تھے۔تو پھر یہ حوالہ جات میرےخلاف کیو نکر استعمال ہو سکتے ہیں اگر تشریعی نبی یا غیر امتی نبی ہونا شرائط نبوت سے ہو تا۔تب بیشک ان حوالہ جات سے ثابت ہوتا کہ آپ میں شرائط نبوت نہیں پائی جاتی تھیں لیکن جبکہ تشریعی نبی یاغیرامتی نبی ہونانبی کی شرائط میں سے نہیں۔تو پھر ان حوالوں کا کیا ثر ؟ نبی کے لئے صرف تین امورضروری ہیں۔اول یہ کہ امورغیبیہ پر کثرت سے اطلاع پائے۔دوم یہ کہ اس کی پیشگوئیاں انذاری و تبشیری رنگ رکھتی ہوں اور مہتم بالشان ہوں۔سوم اسے خدا تعالی ٰنے نبی کہا ہو۔اور مذکورہ بالا حوالوں سے یہ بات ثابت ہے کہ آپ کو کثرت سے امورغیبیہ سے اطلاع بھی دی گئی۔اور آپ نے انذار و تبشیر کے لئے مہتم بالشان خبریں بھی دیں۔اور آپ کا نام بھی خدا نے الہام میں نبی رکھا۔پسنبی کی تعریف کے مطابق آپ نبی ہوئے۔جس قدر حوالہ جات نبوت کے رد میں دیئے جاتے ہیں ان میں سے ایک بھی تو ایسا حوالہ نہیں جس سے یہ ثابت ہوا کہ حضرت مسیح موعود نبی نہ تھے۔بلکہ قریباً ان سب سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ نبی تھے۔کیونکہ حضرت مسیح موعودنے ابتدائے دعوائے مسیحیت موعودہ سے برابر اس بات کا اعلان فرمایا ہے کہ آپ پر خدا تعالی ٰکثرت سے امورغیبیہ ظاہر فرماتا ہے۔اور حضرت صاحب کے الہاموں کو ابتداء سے دیکھ جاؤ - وہ کسی خاص ملک کے لئے نہیں۔بلکہ ساری دنیا کے لئے بشارت و انذار کا پہلو رکھتے ہیں۔اور سب دنیا کو ان میں انذار و تبشیر کیاگیا ہے۔پر ابتدائے دعوے سے آپ کے الہامات میں آپ کو نبی کے نام سے پکارا گیا ہے۔اور میں ثابت کر چکا ہوں کہ نبی کے لئے یہی تین شرائط ہیں۔جس میں یہ تین شرائط پائی جائیں۔وہ یقینا ًًنبی ہے۔جو شخص حضرت صاحب کا یہ دعوی ٰنکال کر کہ میں کوئی نئی شریعت نہیں لایا۔بلکہ میرا تو صرف یہی دعوی ٰہے کہ مجھ پر کثرت سے امور غیبیہ ظاہر کئے جاتے ہیں۔یا یہ دعویٰ نکال کر کہ میں نے جو کچھ پایا ہے آنحضرت ﷺ کی اتباع سے پایا ہے۔یہ کہے کہ اس سے ثابت ہوا کہ آپ نبی نہ تھے۔اسے یاد رکھنا چاہئے کہ قرآن کریم میں تو ہم یہ آیت لکھ پاتے ہیں کہ فلا يظهر على غيبہ الا من ارتضی من رسول یعنی الله تعالیٰ غیب کی خبریں کثرت سے صرف اپنے رسولوں پر ہی ظاہر فرماتا ہے۔ہم حضرت مسیح موعودؑکی کسی ایسی تحریر کا جس میں آپ لکھتے ہوں کہ میں کوئی