انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 430 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 430

۴۳۰ (ضمیمه حقيقة الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ ص۶۳۷) ثم مع ذلك ذکرت غیر مرة ان اللہ ما أراد من نبوتی الا کثرة المكالمة و المخاطبة وھو مسلم عند اکابر اهل السنة فالنزاع ليس إلا نزاعا اا لفظيا لفظیا فلا تستعجلوا یا اهل العقل و الفطنة و لعنة اللہ من ادعی خلاف ذالک مثقال ذرة و معھا لعنة الناس و المائکہ ( ضمیمه حقيقة الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ سنہ۶۳۷) ’’اب جبکہ ان حدیثوں سے ثابت ہے کہ آنے والا عیسیٰ امتی ہے تو کلام الہٰی میں اس کا نام نبی رکھنا ان معنوں سے نہیں ہے۔جو ایک مستقل نبی کے لئے مستعمل ہوتے ہیں۔بلکہ اس جگہ صرف ہی مقصود ہے کہ خدا تعالیٰ اس سے مکالمه مخاطبہ کرے گا۔اور غیب کی باتیں اس پر ظاہر کرے گا۔اس لئے باوجود امتی ہونے کے وہ نبی بھی کہلائے گا۔‘‘ ( براہین احمدیہ پنجم روحانی خزائن جلد ۲۱ ص ۳۵۳) کوئی شخص اس جگہ میں ہونے کے لفظ سے دھوکہ نہ کھاوے۔میں بار بار لکھ چکا ہوں کہ یہ وہ نبوت نہیں ہے جو ایک مستقل نبوت کہلاتی ہے کوئی مستقل نبی امتی نہیں کہلا سکتا۔مگر میں امتی ہوں۔پس یہ صرف خداتعالی ٰکی طرف سے ایک اعزازی نام ہے جو آنحضرت ﷺ کی اتباع سے حاصل ہوا تاحضرت عیسیٰ سے تکمیل مشابہت۔۔ہو‘‘۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۳۶۰) \" ہم بار ہا لکھ چکے ہیں کہ حقیقی اور واقعی طور پر تو یہ امر ہے کہ ہمارے سید و مولیٰ آنحضرت ﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔اور آنجناب کے بعد مستقل طور پر کوئی نبوت نہیں اه۔۔اور نہ کوئی شریعت ہے۔اور اگر کوئی ایسادعویٰ کرے تو بلاشبہ وہ بے دین اور مردودر ہے۔لیکن خداتعالی ٰنےابتداء سے ارادہ کیا تھا کہ آنحضرت ﷺکے کمالات متعدیہ کے اظہار اور اثبات ان کے لئے کسی شخص کو آنجناب کی پیروی اور متابعت کی وجہ سے وہ مرتبہ کثرت مکالمات اور مخاطبات الہٰیہ بخشےکہ جو اس کے وجود میں عکسی طور پرنبوت ۵ کارمنگ پیدا کردے۔سو اس طور سے خدا نے میرا نام نبی رکھا۔یعنی نبوت محمدیہ میرے آئینہ نفس میں منعکس ہو گئی۔اور ظلیّ طور پر نہ اصلی طور پر مجھے یہ نام دیا گیا تامیں آنحضرتﷺ کے فیوض کا کامل نمونہ ٹھہروں۔(چشمہ معرفت روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۳۴۰) اب جبکہ میں وہ سب حوالہ جات جنہیں جناب مولوی صاحب نے اپنے بیان کی تائید میں پیش ۳۲۴