انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 25 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 25

۲۵ مخلوق میں سے کوئی اضطراب اور درد سے دعا کرے اور وہ قبول نہ ہو۔میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ وہ دعا ضرور قبول ہوتی ہے یہ معاملہ میرے ساتھ ہی نہیں بلکہ ہر شخص کے ساتھ ہے چنانچہ فرماتا ہے۔وَ اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌؕ-اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِۙ-فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَ لْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّهُمْ یَرْشُدُوْنَ(البقرة ۱۸۷)جب میرے بندے میری نسبت تجھ سے سوال کریں تو ان کو کہہ دے کہ میں قریب ہوں اور پکارنے والے کی پکار سنتا ہوں اور اسے قبول کرتا ہوں۔یہاں اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ فرمایا یہ نہیں کہا کہ میں صرف مسلمان یا کسی خاص مُلک اور قوم کے آدمی کی دعا سنتا ہوں، کوئی ہو، کہیں کا ہو، اور کہیں ہو۔اس قبولیت دعا کی غرض کیا ہوتی ہے؟ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَ لْیُؤْمِنُوْا بِیْ مان لے اور مسلمان ہو جاوے اور مسلمان اور مؤمن ہو تو اس ایمان میں ترقی کرے۔کافر کی دعائیں اس لئے قبول کرتا ہوں کہ مجھ پر ایمان ہو اور وہ مؤمن بن جاوے۔اور مؤمن کی اس لئے کہ ُرشد اور یقین میں ترقی کرے۔خدا تعالیٰ کی معرفت اور شناخت کا بہترین طریق دعا ہی ہے اور مؤمن کی امیدیں اسی سے وسیع ہوتی ہیں۔پس میں نے بھی بہت دعائیں کی ہیں اور مجھے یقین ہے کہ وہ قبول ہوں گی۔پھر میں نے اس کے حضور دعا کی کہ میں ان لوگوں کے سامنے کیا کہوں تو آپ مجھے تعلیم کر اور آپ مجھے سمجھا۔میں نے اس فتنہ کو دیکھا جو اِس وقت پیدا ہوا ہے میں نے اپنے آپ کو اِس قابل نہ پایا کہ اُس کی توفیق اور تائید کے بغیر اِس کو دور کر سکوں میرا سہارا اُسی پر ہے اس لئے میں اُسی کے حضور جھکا اور درخواست کی کہ آپ ہی مجھے بتائیں اِن لوگوں کو جو جمع ہوئے ہیں کیا کہوں۔اُس نے میرے قلب کو اسی آیت کی طرف متوجہ کیا اور مجھ پر ان حقائق کو کھولا جو اِس میں ہیں۔میں نے دیکھا کہ خلافت کے تمام فرائض اور کام اِس آیت میں بیان کر دیئے گئے ہیں تب میں نے اِسی کو اِس وقت تمہارے سامنے پڑھ دیا۔لَاخِلَافَۃَ اِلاَّ بِالْمَشْوَرَۃِمیرا مذہب ہے لَاخِلَافَۃَ اِلاَّ بِالْمَشْوَرَۃِخلافت جائز ہی نہیںجب تک اس میں شوریٰ نہ ہو۔اِسی اصول پر تم لوگوں کو یہاں بُلوایا گیا ہے اور میں خدا تعالیٰ کے فضل سے اس پر قائم ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اِس پر قائم رہوں۔میں نے چاہا کہ مشورہ لوں مگر میں نہیں جانتا تھا کہ کیا مشورہ لوں۔میرے دوستوں نے کہا کہ مشورہ ہونا چاہیے میں نے اس کی تصریح نہیں پوچھی۔میں چونکہ مشورہ کو پسند کرتا ہوں اس لئے ان سے اتفاق کیا اور انہوں نے آپ کو بُلا لیا مگر مجھے کل تک معلوم نہ تھا کہ میں کیا کہوں آخر جب میں نے