انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 418 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 418

کے ظہور کے مطلب یہ ہوتے تھے کہ ان کے موجودہ زمانہ میں جو لوگ تعلیم توریت سے دور پڑگئے ہوں پھر ان کو توریت کے اصلی منشاء کی طرف کھینچیں اسی طرح فرماتے ہیں۔\"بنی اسرائیل میں کئی ایسے نبی ہوئے ہیں جن پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی صرف خدا کی طرف سے پیشگوئیاں کرتے تھے\" (بدر۵/ مارچ ۱۹۰۸ء) ان تینوں حوالوں سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ کے نزدیک نبی کے لئے یہ شرط نہیں ہے کہ کو ئی شریعت بھی لائے بلکہ آپ کے نزدیک بنی اسرائیل میں ایسے کئی نبی گزرے ہیں جو شریعت نہیں لائے تھے۔اسی طرح یہ بھی ظاہر ہے کہ نبی کے لئے بلاواسطہ نبوت پانا بھی کوئی شرط نہیں۔پس نبی وہی ہے جو مذکورہ بالا شرائط کے مطابق نبی ہو جو خدا اور اس کے رسولوں کی بیان کردہ شرائط ہیں اور کسی کے نبی ہونے کے لئے جو ایک آسمانی عہدہ اور خطاب ہے اتنا ہی کافی ہے کہ اس میں وہ شرائط پائی جائیں نہ یہ کہ دنیا کے ہر فرد بشر کی خود ساختہ تعریفِ نبوت کے مطابق بھی وہ نبی ہو۔نبوت کی تعریف اور اس کی بعض خصوصیات کا ذکر کرنے کے بعد میں جناب مولوی صاحب کے ان حوالہ جات کی طرف توجہ کرتا ہوں۔جن سے آپ نے یہ ثابت فرمایا ہے کہ مسیح موعود کی نبوت نبیوں کی نبوت نہ تھی بلکہ محدثوں کی سی نبوت تھی۔لیکن اس سے پہلے پھر ایک دفعہ پچھلی تمہیدوں کا خلاصہ بیان کردیتا ہوں۔کیونکہ اگر کوئی شخص اس تمہید کو جو میں نے اوپر لکھی ہے اچھی طرح سمجھ لے تو مسئلہ نبوت کا سمجھنا اس کے لئے ایسا آسان ہو جائے گا ہے انڈے پانی کا حلق سےاترنا۔اور نہ صرف یہ کہ وہی حوالہ جات حل ہو جائیں گے جو جناب مولوی محمد علی صاحب نے اپنے رسالہ میں دیئے ہیں بلکہ جو شخص ان باتوں کو یاد کرلے۔میں اللہ تعالی ٰسے امید کرتا ہوں کہ اگر کوئی نئے سے نیا اور مشکل سے مشکل حوالہ بھی اس کے سامنے پیش کیا جائے گاتو اس کے لئے اس کا حل کرنا مشکل نہ ہو گا۔انشاء اللہ تعالیٰ خلاصہ یہ کہ میں اب تک یہ بتا چکا ہوں کہ نبی لغت عرب اور قرآن کریم کے رو سے اسے کہتے ہیں جو (۱) اللہ تعالیٰ سے کثرت سے امور غیبیہ کی اطلاع پائے (۲) جن غیب کی خبروں کی اطلاع اسے دی جائے وہ نہایت عظیم الشان قوی تباہیوں یا ترقیوں پر مشتمل ہوں (۳) یہ کہ خدا تعالی ٰنے اس کا نام نبی رکھا ہو اور جس شخص میں یہ تین باتیں پائی جائیں وہ ضرورنبی ہوگا۔ہاں اس بات سے دھوکا نہیں کھانا چاہئے کہ شرائط نبوت کے علاوہ بعض خصوصیات بھی ہیں۔جن کی وجہ سے نبیوں کی کئی اقسام ہو جاتی ہیں۔لیکن سب کی نبی ہی ہوتے ہیں۔اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ بعض باتوں کو ہم دیکھتے ہیں کہ بعض نبیوں میں پائی جاتی ہیں اور بعض میں ()