انوارالعلوم (جلد 2) — Page 404
تب ہی کہلا سکتا ہے جب اسے کسی اور نبی کی اتباع سے نبوت نہ ملے بلکہ براہ راست نبوت ملے خدا تعالی ٰکے کام تو لغو نہیں ہوتے اور نہ اس کا جسمانی سلسلہ روحانی سلسلہ کے خلاف چلتا ہے۔کیا اگر کوئی شخص یہ کہے کہ پانی صرف اسی کی پیاس بجھاتا ہے جو اسے خود کنویں سے نکال کر پئے اور جودوسرے کا نکالا ہؤا پانی پی لے اس کی پیاس نہیں بجھاتا۔یا مثلاً یہ کہ کھانا اس کا پیٹ بھرتا ہے جو خود پکا کرکھائے ورنہ دوسرے کا پکا کر دیا ہوا کھانا سیر نہیں کرتا تو کیا اس کی بات کو کوئی تسلیم کر سکتا ہے؟ پھراس بات کو عقل سلیم کس طرح تسلیم کر سکتی ہے کہ نبی صرف وہی ہوتا ہے جو براہ راست نبوت پائے ورنہ جس کو نبوت واسطہ سے ملی اس کی نبوت نبوت ہی نہیں اور جبکہ قرآن کریم جو خدا تعالیٰ کا کلام ہے اور چھوٹے بڑے سب امور میں حکم ہے وہ اس مسئلہ میں خاموش ہے اور آنحضرت ﷺ جو قیامت تک کے لئے دنیا کے ہادی ہیں ایسی شرط کوئی نہیں لگاتے تو اپنے پاس سے یہ شرط لگانے والا کہ نبی وہی ہو سکتا ہے جو براہ راست شریعت لائے اپنے انجام پر غور کرے کہ ہدایت کے آجانے کے بعد ضلالت پر قائم رہنا خطرناک نتائج کا پیدا کرنے والا ہے۔خلاصہ کلام یہ کہ لغت عرب اور قرآن کریم کے محاورہ کے مطابق رسول اور نبی وہی ہوتے ہیں جو کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع پائیں اور مہتم بالشان تغیرات کی جو قوموں کی تباہی اور ان کی ترقی کے متعلق ہوں خبردیں اور خدا تعالیٰ ان کا نام نبی رکھے اور جس انسان میں یہ بات پائی جائے وہ نبی ہے اور کوئی چیز اس کے نبی ہونے میں روک نہیں۔اس امر کے سمجھ لینے کے بعد ہم حضرت مسیح موعودؑ کی نبوت پر نظر ڈالتے ہیں تو آپ کی نبوت میں وہ تمام باتیں پائی جاتی ہیں جو نبی اللہ کے لئے لغت و قرآن و محاورہ انبیائے گزشتہ سے لازمی معلوم ہوتی ہیں یعنی آپ کو کثرت سے امور غیبیہ سے خبر دی گئی اور پھر اہم تغیرات کے متعلق دی گئی جو انذار و بشارت دونوں حصوں پر مشتمل تھی اور پھر یہ کہ آپ کا نام اللہ تعالی ٰنے نبی رکھا۔پس آپ قرآن کریم و لغت و محاوره انبیاۓ گذشتہ کی مطابق نبی تھے اور آپ کی عدالت کے ثابت ہو جانے کے بعد کوئی شخص آپ کی نبوت میں شک نہیں لا سکتا۔اب یہ سوال را جاتا ہے کہ اگر قرآن کریم اور لغت عرب اور اور انبیائے گذشتہ کے روسے حضرت مسیح موعودؑ کی نبوت ثابت ہے اور جو تعریف نبوت کی ہے وہ آپ پر صادق آتی ہے اورنفس نبوت کے لئے شرائط مذکورہ بالا سے زائد کی شرط کی اجازت نہیں تو آپ نے کیوں نبیوں کےساتھ مختلف الفاظ لگادئیے۔ان الفاظ سے تو معلوم ہو تا ہے کہ شاید بعض حالات میں بعض نبی