انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 385 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 385

۳۸۵ یہ ایک ثابت شدہ امر ہے چنانچہ اس کی نظیرمیں مسیح موعوؑد کو دیکھ لو کہ اس نے آپؐ کی اطاعت اور غلامی سے ہر ایک قسم کی برکت کو پالیا۔پس ثابت ہوا کہ استاد بھی برکتوں والا ہے اور شاگرد بھی۔استاد اس لئے کہ اگر اس میں ہر قسم کی برکات کے افاضہ کی طاقت نہ ہوتی اور اس کافیضان ایساو سیع نہ ہو تاتو پھرده ایساشاگر د کیو نکر تیار کر سکتا تھا جو ہر قسم کی برکات سے حصہ پانے والا ہو۔اور شاگرد اس لئے بہت برکت والا ہے کہ ایک تو اس نے اس وقت جبکہ دنیا اس فرد کامل سے جو سب دنیا کی نجات دینے کے لئے آیا تھاخواه عرب ہوں خواه عجم خواہ گورے ہوں خواہ کالے خواہ عالم ہوں خواہ جاہل غافل تھی اور اس کی خوبیوں سے بے خبر ہو رہی تھی لوگوں کو اس کی خوبیوں سے آگاہ کیا اور اپنے استاد کا نام پھر دنیا میں روشن کیا اور براہینِ قاطعہ دلائلِ نیرّه ححجج بالغہ اور آیات بینہّ سے اس کی عظمت اور جلال کو دنیا سے منوایا اور دوست و دشمن پر روشن کر دیا کہ محمد ﷺ نجات دہند ہ عالم ہیں اور قرآن کریم علوم و حکم کا ایک لازوال خزانہ ہے اب کوئی ضد و تعصب سے کام لے کر انکار کرے تو اس کا وبال اس کے سر پر ہے پس ایک تو اس لئے شاگرد کو برکت والا قرار دیا۔اور دوسرے اس لئے بھی کہ دیکھو یہ شاگرد جس نے ایسے عظیم الشان استاد کے کمالات کو اپنے اند رلیا۔اور اپنے آپ کو اسی کے رنگ میں رنگین کر کے ان علوم و فنون کا وارث ہؤ اجن سے دنیا ناواقف تھی اور اس درجہ تک پہنچ گیا جس سے نبوت محمدیہ کی شان نہایت چمک کے ساتھ دنیا پر ظاہر ہوئی۔کیسا با کمال ہے؟۔اب میں پھر اصلی مضمون کی طرف آتا ہوں اور جناب مولوی صاحب کے دو نتیجوں کے غلط ثابت کرنے کے بعد ان کے تیسرے نتیجہ کی نسبت کچھ بیان کرتا ہوں۔سو یاد رہے کہ جناب مولوی صاحب نے میری ایک عبارت نقل کر کے جیسا کہ میں اوپر لکھ آیا ہوں میرا نتیجہ یہ نکالا ہے کہ۱۹۰۲ ء سے پہلے کی کوئی عبارت مسلہ نبوت کے متعلق حجت نہیں اور اس پر انہوں نے لکھا ہے کہ ویکھو ریویو جسے ناسخ کیا جا تا ہے پہلے کا ہے اور تریاق القلوب بعد کی کتاب ہے اس لئے یہ بات ہی غلط ہے۔اس کا جواب میں مفصل لکھ آیا ہوں اور یہ بھی لکھ دیا ہے کہ میں نے جو اپنے رسالہ میں۱۹۰۲ء تربات القلوب کی تاریخ لکھی ہے وہ اس کی اشاعت کی تاریخ ہے اور چونکہ اس وقت اس بحث کا چھیڑنار سالہ کو لمبا کر دیتا تھا۔اس رسالہ میں بہت سے امور کے جواب دینے تھے اس لئے میں نے تاریخ ۱۹۰۲ء کو تسلیم کر لیا تاکہ اس جگہ بحث نہ چھڑے اور یہ بات ویسی ہی ہے جیسے حضرت صاحب پر تریاق القلوب اور ریویو کے مضامین میں اختلاف کے متعلق جب اعتراض کیا گیا تو آپ