انوارالعلوم (جلد 2) — Page 364
۳۹۴ , ناسخ تھی ریویو کے مضمون کی۔پھر بھی حضرت صاحب حقیقۃ الوحی میں وہی مضمون پھر بیان کرتے ہیں جو ریویو میں کیا تھا حضرت مسیح موعود ؑکا حقیقۃ الوحی میں اپنے آپ کو حضرت مسیح ؑ سے افضل قرار دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ ریویو کا مضمون ناسخ ہے اور تریاق القلوب کا منسوخ یا کم سے کم یہ کہ حضرت مسیح موعودؑ ایسا ظاہر فرماتے ہیں اور اگر تریاق القلوب کا مضمون ناسخ ہو تا تو چاہئے تھا کہ آپ بعد کی کتب میں یہ تحریر فرماتے کہ ہم حضرت مسیح ؑسے افضل نہیں لیکن آپ تو بعد کی کتب میں اپنے آپ کو افضل قرار دیتے ہیں جس سے صاف ثابت ہوا کہ آپ اس تحریر کو جس میں آپ نے اپنے آپ کو مسیح ؑ سے افضل قرار دیا ہے ناسخ قرار دیتے ہیں اس تحریر کا جس میں اپنے آپ کو مسیح سے ادنیٰ قرار دیا ہے اور جس مضمون میں افضل قرار دیا ہے وہ ریویو کا مضمون ہے پس ہر ایک شخص جو ضد سے کام نہ لے سمجھ سکتا ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ تریاق القلوب کے اس حوالہ کو منسوخ قرار دیتے ہیں ورنہ حضرت صاحب پر یہ اعتراض آئے گا کہ آپ نے خدائے تعالیٰ کی متواتر وحی سے ایک بات معلوم کی۔لیکن آپ ایک ہی کتاب میں اس نئے عقیدہ کو لکھ کر بھول گئے۔اور پھر وہی پرانا عقیدہ اپنی کتابوں میں لکھنا شروع کردیا کہ میں افضل ہوں مسیح ؑسے۔اور تعجب ہے کہ خود حقیقۃ الوحی میں جس جگہ ریویو کے مضمون کو غلط قرار دیا اسی جگہ پر اپنی افضلیت پر زور دینے لگے۔لیکن ایسا فعل حضرت مسیح موعود ؑکی طرف ہرگز منسوب نہیں ہو سکتا اور حق یہی ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ تریاق القلوب کے حوالہ کو منسوخ قرار دیتے ہیں ریو یوکے مضمون سے۔اور جو شخص کہتا ہے کہ حضرت صاحب کی بعض عبارتوں کو کیوں منسوخ قرار دیتے ہو اس کا قول انہی لوگوں کا سا ہے جو کہتے ہیں کہ جس قدر کتب سماویہ اس وقت موجود ہیں سب قابل عمل ہیں اور خدائے تعالیٰ کا کلام منسوخ نہیں ہو سکتا۔اس کا جواب یہی ہے کہ جن کتابوں کو اللہ تعالی نے منسوخ کرد یا ان کو ہم قابل عمل کیونکر کہہ سکتے ہیں یہ معاملہ بھی ایسا ہی ہے حضرت صاحب اپنے اجتہاد سے ایک عقیدہ رکھتے تھے خدائے تعالی ٰنے آپ کو بتلایا کہ یہ عقیدہ درست نہیں درست یہ ہے پس ہم اس کو تسلیم کریں گے جسے خدائے تعالی ٰنے درست قرار دیا اور اسی کو تسلیم کریں گے جسے حضرت مسیح موعودؑنے ناسخ قرار دیا۔ہاں جو شخص باوجود اس کے کہ مسیح موعودؑ ریویو کے مضمون کو ناسخ قرار دیتے ہیں یہ اعتراض کرے کہ آپ نے نعوذ باللہ یہ خلاف عقل بات کیوں لکھی کہ پہلی تحریر کو جائز قرار دیا ہے اور بعد کی تحریر کو منسوخ۔تو وہ پہلے مسیح موعودؑ کا انکار کرے پھر ہم سے سوال کرے ہم اسے انشاء اللہ پوری طرح جواب دیں گے کیونکہ جب یہ ثابت ہوگیا کہ حضرت مسیح