انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 361 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 361

۳۶ بات بالکل ثابت ہے کہ تریاق القلوب اور ریویو کے مذکورہ بالا دونوں بیانات میں اختلاف ہے۔’’اس جگہ کسی کو یہ وہم نہ گذرے کہ اس تقریر میں اپنے نفس کو حضرت مسیح پر فضیلت دی ہے۔کیونکہ یہ ایک جز ئی فضیلت ہے جو ایک غیرنبی کو نبی پر ہو سکتی ہے۔‘‘ (تریاق القلوب منم ۳۵۳ روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۴۸۱) ریویو میں فرماتے ہیں: \"خدا نے اس امت میں سے امور بھیجا جو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے\"۔(ریویو آف ریلیجیز جلد اول نمبر ۶ صفحہ ۲۵۷) اوراس اختلاف کی نسبت ایک شخص نے آپ سے سوال کیا ہے کہ یہ کیوں ہے تو آپ نے وہ جواب دیا جو اوپر درج کیا گیا ہے اور آگے چل کر یہ بھی فرمایا \" خلاصہ ہے کہ میرے کلام میں کوئی تناقض نہیں میں تو خدا تعالیٰ کی وحی کا پیروی کرنے والا ہوں۔جب تک مجھے اس کا علم نہ ہوا میں وہی کہتارہاجو اوائل میں میں نے کیا۔اور جب مجھ کو اس کی طرف سے علم ہوا تو میں نے اس کے مخالف کہا\"( حقیقۃ الوحی صفحہ۱۵۰) یعنی یہ اختلاف میرے کلام کا نہیں کہ مجھے جھو ٹاکہا جائے بلکہ بات یہ ہے کہ پہلے میں اجتہادسے کہتا رہا مگر بعد میں اللہ تعالی کی وحی پر غور کر کے مجھے اپنا عقیدہ بدلناپڑا اور میں پہلے قول کے مخالف کہنے لگا۔پس یہ تو خدائے تعالیٰ کی طرف سے ایک نیا علم تھانہ کہ میرے اقوال کا تناقض اور اختلاف پہلا قول میرا تھا اور دو سراخدا کا۔اب اس جگہ وہ دو سرا اعتراض کیا جاتا ہے جو میں اوپر لکھ آیا ہوں کہ اگر یہ بھی ثابت ہو جائےکہ تریاق القلوب میں کچھ اور لکھا ہے اور ریویو میں کچھ اور۔تو بھی آپ کا مطلب ثابت نہیں ہوتاہم کس طرح مان لیں کہ تریاق القلوب کے حوالہ کو ریویو کے حوالہ نے منسوخ کر دیا کیوں نہ یہ کہا جائے کہ تریاق القلوب کے حوالہ نے ریویو کے حوالہ کو منسوخ کر دیا۔اور ہماری بات اس دلیل سے اور بھی وزنی ہو جاتی ہے کہ ریویو کا مضمون دافع البلا ءسے لیا گیا ہے جو ۱۹۰۲ء کے ابتداءمیں شائع ہوا۔اور تریاق القلوب اکتوبر ۱۹۰۲ء میں شائع ہوئی ہے۔پس یہ کس طرح ممکن ہے کہ جو کتاب پہلے لکھی گئی وہ بعد کی کتاب کو منسوخ کردے کیا کوئی عقل سلیم اس امر کو تسلیم کر سکتی ہے کہ جو بات بعد میں لکھی گئی وہ اس بات سے منسوخ ہو جائے جو اس سے چھ ماہ پہلے لکھی گئی جو حکم بعد میں دیا جائے وہ پہلے حکم کا ناسخ ہو تا ہے نہ کہ پہلا حکم بعد کے حکم کا بیشک یہ ایک ایسا اعتراض ہے جو ظاہر میں بہت و زنی معلوم ہو تا ہے اور شائد بعض لوگ اس