انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 327 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 327

۳۲۷ کُرسی نہ ملنے کا واقعہ ہمیشہ بیان فرماتے تھے بلکہ آپ نے کتاب البریہ صفحہ۱۰ میں اسے لکھا بھی ہے اور اسے اُس کی ذلّت قرار دیتے تھے۔لیکن کیا خود یہی واقعہ حضرت صاحب پر چسپاں نہیں ہوتا؟ کیا کرم دین کے مقدمہ میں مجسٹریٹ آپ کو کھڑا نہ رکھتا تھا؟ کیا ایسا نہیں ہوا کہ بعض اوقات آپ نے پانی پینا چاہا اور اُس نے پانی تک پینے کی اجازت نہیں دی؟ لیکن کیا آپ اس کو ذلّت کہہ سکتے ہیں؟اگر نہیں تو کیوں اور پھر کیوں؟ محمدحسین سے ویسے ہی سلوک پر اُسے ذلّت قرار دیا گیا۔سنیے! ان دونوں مثالوں میں ایک فرق ہے اوّل تو یہ کہ محمد حسین کو سخت ڈانٹ دی گئی اور ڈپٹی کمشنر بہادر نے جھڑک کر پیچھے ہٹا دیا لیکن حضرت صاحب سے یہ معاملہ نہیں ہوا۔دوسرے مقدمہ ایک ایسے مجسٹریٹ کے سامنے پیش تھا جس کے سامنے دونوں برابر تھے بلکہ حضرت مسیح موعو دعلیہ السلام مسیحیت کے دشمن تھے اور وہ ایک مسیحی تھا پس صاحب بہادر کا سلوک محمد حسین سے بِلا کسی محرک کے ہوا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بوجہ اُن کی تبلیغی کوششوں اور سب مذاہب کی بنیادیں کھوکھلی کر دینے کے سب فِر قوں کو عداوت تھی خصوصاً اہالیانِ ہند کو۔پس ایک ہندوستانی کا آپ سے یہ سلوک کرنا پہلے معاملہ سے اس کو علیحدہ کر دیتا ہے۔پھر ایک اور بات ہے کہ لوگ ہمیشہ مرا بھی کرتے ہیں لیکن غلام دستگیر کی موت کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی سچائی کی دلیل قرار دیتے ہیں یہ کیوں؟ اس لئے کہ اس نے مباہلہ کیا تھا اور مطابق مباہلہ کے مر گیا۔اسی طرح اب اس معاملہ کو لیجئے مولوی محمد علی صاحب نے صبح کے وقت مسجد میں تقریر کی کہ اگر میں نے بدنیتی سے ٹریکٹ لکھا تھا تو خدا مجھے پکڑے ، مجھے ہلاک کرے، مجھے ذلیل کر دے۔عصر کے وقت وہ ایک ایسے مجمع میں کھڑے ہوتے ہیں جو ان کے دشمنوں کا نہیں اس جماعت کا ہے جس میں پہلے کھڑے ہو کر اُنہوں نے یہاں تک بھی کہا تھا کہ تم اپیل تو سنتے رہے، چندہ مانگنے کے وقت اُٹھ کر بھاگتے تھے ہم جوتیوں سے چندہ وصول کریں گے اس جماعت کا تھا جس میں آپ کے ماتحت ملازم شامل تھے۔اس جماعت کا تھا جس میں وہ طلباء موجود تھے جو مولوی صدر الدین صاحب ہیڈماسٹر کی زیر تربیت رہتے تھے اور مولوی صدرالدین صاحب ہی اُس وقت کے سیکرٹری تھے وہ اس مجمع میں کھڑے ہوتے ہیں جس پر میرا کوئی زور نہ تھا، کوئی حکومت نہ تھی، جماعت کے لوگ مختلف جگہوں سے اکٹھے ہوئے ہوئے تھے۔وہ دیرینہ سیکرٹری شپ کی وجہ سے مولوی صاحب کے ایسے معتقد تھے کہ بعض ان میں سے آپ کے لئے تحفہ تحائف بھی لایا کرتے تھے۔مولوی صاحب جماعت کے معززین اشخاص میں خیال کئے جاتے تھے ان کے ترجمہ قرآن کی طرف لوگوں کی نظریں لگی ہوئی تھیں۔چند سال کی متواتر کوشش سے وہ لوگوں کی نظروں میں ایسے *روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحہ ۳۸