انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 324 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 324

۳۲۵ آپ کے لئے کافی نہ تھی؟ آپ نے خلافت پر اعتراض کرتے ہوئے ایک جگہ لکھا ہے کہ کیا خلیفہ غلطی سے مَصْئُوْن۱۸؎ہے مگر میں کہتا ہوں کہ اگر اسی کا فیصلہ ماننا شرط ہو جو غلطی سے مَصْئُوْن اور محفوظ ہو تو آپ بتائیں کہ کس انسان کا فیصلہ آپ مانیں گے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جیسا انسان جو کُل کمالاتِ انسانیہ کا خاتم ہے فرماتا ہے۔عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ سَمِعَ جَلَبَۃَ خَصْمٍ بِبَابِ حُجْرَتِہٖ فَخَرَجَ اِلَیْھِمْ فَقَالَ اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ وَاَنَّہٗ یَأْتِیْنِی الْخَصْمُ فَلَعَلَّ بَعْضُھُمْ اَنْ یَکُوْنَ اَبْلَغَ مِنْ بَعْضٍ فَاَحْسِبَ اَنَّہٗ صَادِقٌ فَاَقْضِیْ لَہٗ فَمَنْ قَضَیْتُ لَہٗ بِحَقِّ مُسْلِمٍ فَاِنَّمَا ھِیَ قِطْعَۃٌ مِّنَ النَّارِ فَلْیَحْمِلْھَا اَوْیَذَرْھَا۔(مسلم کتاب الاقضیہ،باب الحکم بالظاہروالحن بالحجہ) ترجمہ: اُم سلمہ (اُم المؤمنین) رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ مکان کے دروازہ کے پاس چند آدمیوں کا باہمی مقدمہ کی بابت شور و شغب سن کر ان کے پاس تشریف لے گئے اور فرمانے لگے میں ایک بشر ہوں (عالم الغیب نہیں) لوگ میرے پاس مقدمے لے کر آتے ہیں سو ممکن ہے کہ ایک فریق بات کرنے میں زیادہ ہوشیار ہو اور اس کی باتوں کی وجہ سے میں اُسے سچا خیال کر کے اس کے حق میں فیصلہ دے دوں سو یاد رکھو کہ اس طرح سے اگر کسی شخص کومسلم کا حق دِلا دوں تو یہ مال آگ کا ٹکڑا ہے اب چاہے تو اُسے اُٹھا لے اور چاہے تو چھوڑ دے۔پس کیا آپ کے فیصلہ کو بھی ردّ کر دینا چاہیے کہ ممکن ہے آپ سے غلطی ہوگئی ہو حالانکہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے فَلَا وَ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى یُحَكِّمُوْكَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(النساء۶۶) یعنی تیرے ربّ کی ہی قسم! یہ اُس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتے جب تک تجھ سے اپنے جھگڑوں کا فیصلہ نہ چاہیں اور پھر فیصلوں اور قضایا کو خوشی سے تسلیم نہ کریں۔کیا گورنمنٹ اور اس کے مجسٹریٹ خطاء سے محفوظ ہوتے ہیں؟ اگر نہیں تو کیا اس بناء پر گورنمنٹ اور ججوں کے فیصلے ردّ کر دیئے جاتے ہیں کہ ممکن ہے کہ وہ غلطی کرتے ہوں۔کیا خلیفۃ المسیح جن کی بیعت آپ نے کی تھی خطاء سے محفوظ تھے؟ پھر میں پوچھتا ہوں کہ کیا انجمن اپنے فیصلہ میں کبھی غلطی نہیں کر سکتی؟ پھر انجمن جماعت کی حاکم کیونکر ہو سکتی ہے؟ اگر صرف مَصْئُوْن عَنِ الْخَطَاء کے فیصلے ہی واجبُ العمل ہوتے ہیں تو پھر دنیا کی سب حکومتیں سب انجمنیں مٹا دینی چاہئیں کیونکہ انسان کوئی مَصْئُوْن عَنِ الْخَطَاء نہیں۔نماز ہمارے لئے دلیل ہے امام غلطی کرتا ہے اور خطاء سے پاک نہیں ہوتا مقتدیوں کو حکم ہے کہ باوجود اس کی غلطی