انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 252 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 252

۲۵۲ اٹھا تا ہے اور اس جمادی حالت کو ترک کر دیتا ہے تو اس کے اندر نباتات کے مشابہ ایک نشو و نما کی طاقت پیدا ہو جاتی ہے پس ایک تو وہ انسان ہوتے ہیں جو کہ پتھر کی طرح ہوتے ہیں اور ان میں احساس نہیں ہوتا۔لیکن ایک نباتات کی طرح ہوتے ہیں جن میں کچھ احساس ہوتا ہے۔اب بڑے تجربہ کے بعد یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ نباتات میں بھی روح ہوتی ہے گو حیوانی روح سے ادنیٰ درجہ پر ہوتی ہے مگر ہوتی ضرور ہے۔اس کے ثبوت کے لئے چھوئی موئی کی بوٹی جسے اردو میں لاجونتی کہتے ہیں پیش ہو سکتی ہے اس کے پتوں کو جب ہاتھ لگایا جائے تو وہ سکڑ جاتے ہیں۔یہ پودا نباتات کے اس حصہ میں سے ہے جو اپنی قوت نشو و نما میں ترقی کر کے حیوانی درجہ کے قریب ہو گئے ہیں اور اس سے پتہ لگتا ہے کہ درختوں میں بھی حس ہوتی ہے گو بعض درختوں میں زیادہ ہوتی ہے اور بعض میں کم۔اس طرح بعض اور نباتات حیوانات سے ملتے ہیں جیسے اسپنج کہ اس کی غذا بھی حیوانات سے بنتی ہے اور بعض تو اسے حیوان ہی کہتے ہیں گو سچ تو یہی ہے کہ وہ ایک ترقی یافتہ پودا ہے جو حیوانیت کی سرحد کے بہت قریب ہو گیا ہے۔غرض ان نظائر سے معلوم ہوتا ہے کہ نباتات میں بھی حس ہوتی ہے لیکن حیوانات اور نباتات میں فرق یہ ہوتا ہے کہ ان میں حس تو ہوتی ہے لیکن کسی صدمہ سے بچنے کی طاقت نہیں ہوتی۔لاجونتی کے پتے ہاتھ لگانے سے سکڑتو جاتے ہیں لیکن ان میں یہ طاقت نہیں کہ بھاگ کر اپنے آپ کو بچا لیا کریں۔اسی طرح ایک انسان اس قسم کا ہوتا ہے کہ اس کی کچھ روحانی حس تو باقی ہوتی ہے مگر وہ کسی حملہ سے اپنے آپ کو بچا نہیں سکتا کیونکہ اس کی حس بہت خفیف سی ہوتی ہے۔چنانچہ قرآن شریف میں ایسے لوگوں کی طرف اس آیت میں اﷲ تعالیٰ اشارہ فرماتا ہے وَاِنْ تَدْعُوْھُمْ اِلَی الْھُدٰی لاَ یَسْمَعُوْا وَ تَرٰھُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْکَ وَھُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ۔(الاعراف :۱۹۹)یعنی یہ مخالف لوگ ایسے ہیں کہ ان کو تو ہدایت کی طر ف بلاتا ہے لیکن وہ سنتے نہیں ہیں تجھے وہ دیکھتے نظر آتے ہیں لیکن دراصل وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے۔سمع کے اصل معنے سننے کے ہیں مگر سننے کی غرض ماننا ہی ہوتی ہے اس لئے لا یَسْمَعُوْا سے مراد یہی ہے کہ وہ مان نہیں سکتے اور ان میں ماننے کی طاقت ہی نہیں ہے۔یہ وہی لوگ ہیں کہ ان میں حس تو ہے مگر بچنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ان کی آنکھیں ہوتی ہیں مگر یہ ان سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔تیسرا درجہ :اس سے اوپر اور درجہ ہے اور وہ حیوانی درجہ ہے اس میں انسان حیوان کی طرح ہوتاہے یعنی نباتات سے زیادہ اس میں حس ہوتی ہے اس حالت میں اسے آواز سناؤ گے تو سن لے گا مگر مطلب نہیں سمجھے گا۔اگر اسے دکھ دینے لگو گے تو بھاگ جائے گا مگر اپنے بچنے کے