انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 226 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 226

۲۲۶ پوچھتے ہو ان سے ہی جا کر پوچھ لو وہ کیا کہتے ہیں وہ تو اپنے آ پ کو حضرت مرزا صاحب کا غلام کہتے ہیں اس سے تم اندازہ لگا سکتے ہو کہ حضرت مرزا صاحب کیسے تھے۔پس ہمارے بہت بڑے فرائض میں سے ایک یہ بھی فرض ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ کے حالات اور آپ کے سوانح کو بعدمیں آنے والے لوگوں کے لئے محفوظ کر دیں۔ہمارے لئے آنحضرت ﷺ کا اسوہ حسنہ اور پھر (آپ کے عاشق صادق )حضرت مسیح موعود ؑ کا اسوہ حسنہ نہایت ضروری ہے۔اس لئے حضرت مسیح موعودؑ کے سوانح لکھنے نہایت ضروری ہیں پس جس کسی کو آپ کا کوئی واقعہ کسی قسم کا یاد ہو وہ لکھ کر میرے نام بھیج دے۔یہ ہمارے ذمہ بہت بڑا کام ہے جس کو ہم نے کرنا ہے میں نے ایک آدمی کو لوگوں سے حالات دریافت کر کے لکھنے کے لئے مقرر کیا ہے اور وہ لکھ رہا ہے تم میں سے بھی جس کو کوئی واقعہ یاد آئے وہ لکھ کر بھیج دے تا کہ کل واقعات ایک جگہ جمع کر کے چھاپ دیئے جائیں اور ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو جائیں۔آج بہت سے لوگ حضرت مسیح موعودؑ کے دیکھنے والے اور آپ کی صحبت میں بیٹھنے والے موجود ہیں اور ان سے بہت سے واقعات معلوم ہو سکتے ہیں مگر جوں جوں یہ لوگ کم ہوتے جائیں گے آپ کی زندگی کے حالات کا معلوم کرنا مشکل ہو جائے گا۔اس لئے جہاں تک ہو سکے بہت جلد اس کام کو پورا کرنا چاہئے۔تنازعات کا فیصلہ :ایک اور ضروری امر ہے جس کی طرف تمہاری توجہ کی ضرورت ہے اور وہ یہ کہ جب کوئی اختلافی مسئلہ پیش ہویا تنازع پیدا ہو تو جماعت کے لوگوں کو چاہئے کہ خود بخود ہی فیصلہ نہ کرنے بیٹھ جایا کریں۔جب تم نے اتحاد کیا ہے اور ایک سِلک میں منسلک ہو گئے ہو تو تمہیں چاہئے کہ جب کوئی جھگڑا واقع ہو تو اس کے متعلق ہم کو لکھو اور ہم سے فیصلہ کرواؤ۔آپس کے جھگڑے یہاں بھیجو ہم تحقیقات کر کے اﷲ تعالیٰ کی توفیق سے فیصلہ کریں گے۔پرائمری سکول :ایک اور امر جس کی طرف میں آج آپ لوگوں کو توجہ دلانا چاہتا ہوں یہ ہے کہ جماعت کی تعلیمی ترقی کے لئے میں نے تجویز کی ہے کہ ہر جگہ پرائمری سکول کھولے جائیں۔چنانچہ میں نے یہ کام شروع کروا دیا ہے اور اس وقت تک دس کے قریب سکول کھل چکے ہیں تمام احمدیہ انجمنیں اپنی اپنی جگہ کوشش کریں کہ وہاں سکول کھول دیئے جائیں اگر کسی جگہ پہلے سکول ہے بھی تو بھی ہمارے احمدی سکول کی ضرورت ہے کیونکہ دوسرے سکولوں میں قرآن شریف نہیں پڑھایا جاتا اس لئے ضروری ہے اپنا مدرسہ کھولا جائے۔پس سکولوں کے کھلوانے کی کوشش کرو۔اس کے لئے انجمن ترقی اسلام کے ماتحت میں نے ایک سب کمیٹی بنا دی