انوارالعلوم (جلد 2) — Page 5
۵ اور تمہارا متحد کام اس سلسلہ کی ترقی اور اِس سلسلہ کی غرض و غایت کو عملی رنگ میں پورا کرنا ہے پس اب جو تم نے میرے ساتھ ایک تعلق پیدا کیا ہے اس کو وفاداری سے پورا کرو۔تم مجھ سے اور میں تم سے چشم پوشی خدا کے فضل سے کرتا رہوں گا۔تمہیں امربِالمعروف میں میری اطاعت اور فرمانبرداری کرنی ہوگی۔اگر نَعُوْذُبِاللّٰہِ کہوں کہ خدا ایک نہیں تواُسی خدا کی قسم دیتا ہوں جس کے قبضۂ قدرت میں ہم سب کی جان ہے جو وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ اور لیس کمثلہ شیء (الشورٰی۔۱۲ )ہے کہ میری ایسی بات ہرگز نہ ماننا۔اگر میں تمہیں نَعُوْذُبِاللّٰہِ نبوت کا کوئی نقص بتاؤں تو مت مانیو۔اگر قرآن کریم کا کوئی نقص بتاؤں تو پھر خدا کی قسم دیتا ہوں مت مانیو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو خدا تعالیٰ سے وحی پا کر تعلیم دی ہے اس کے خلاف کہوں تو ہرگز ہرگز نہ ماننا۔ہاں میں پھر کہتا ہوں اور پھر کہتا ہوں کہ امرمعروف میں میری خلاف ورزی نہ کرنا۔اگر اطاعت اور فرمانبرداری سے کام لو گے اور اس عہد کو مضبوط کرو گے تو یاد رکھو اللہ تعالیٰ کا فضل ہماری دستگیری کریگا۔ہماری متحد دعائیں کامیاب ہوں گیاور میں اپنے مولیٰ کریم پر بہت بڑا بھروسہ رکھتا ہوں مجھے یقین کامل ہے کہ میری نصرت ہوگی۔پرسوں جمعہ کے روز میں نے ایک خواب سنایا تھا کہ میں بیمار ہو گیا اور مجھے ران میں درد محسوس ہوا اور میں نے سمجھا کہ شاید طاعون ہونے لگا تب میں نے اپنا دروازہ بند کر لیا اور فکر کرنے لگا کہ یہ کیا ہونے لگا ہے۔میں نے سوچا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے وعدہ کیا تھا اِنِّیْ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ ۲؎ یہ خدا کا وعدہ آپ کی زندگی میں پورا ہوا۔شاید خدا کے مسیح ؑ کے بعد یہ وعدہ نہ رہا ہو کیونکہ وہ پاک وجود ہمارے درمیان نہیں۔اِسی فکر میں میں کیادیکھتا ہوں یہ خواب نہ تھا بیداری تھی میری آنکھیں کُھلی تھیں میں در و دیوار کو دیکھتا تھا، کمرے کی چیزیں نظر آ رہی تھیں میں نے اسی حالت میں اللہ تعالیٰ کو دیکھا کہ ایک سفید اور نہایت چمکتا ہوا نور ہے۔نیچے سے آتا ہے اور اوپر چلا جاتا ہے نہ اس کی ابتداء ہے نہ انتہاء۔اس نور میں سے ایک ہاتھ نکلا جس میں ایک سفید چینی کے پیالہ میں دودھ تھا جو مجھے پلایا گیا جس کے بعد معاً مجھے آرام ہو گیا اور کوئی تکلیف نہ رہی۔اس قدر حصہ میں نے سنایا تھا اس کا دوسرا حصہ اُس وقت میں نے نہیں سنایا اَب سناتا ہوں وہ پیالہ جب مجھے پلایا گیا تو معاً میری زبان سے نکلا ’’میری اُمت بھی کبھی گمراہ نہ ہوگی‘‘۔