انوارالعلوم (جلد 2) — Page 216
۲۱۶ ' اکٹھے بیٹھے ہیں۔میں اس بات کو معلوم کرنے کے لئے وہیں بیٹھ گیا۔تھوڑی دیر کے بعد جب وہ چلے تو معلوم ہوا کہ دونوں لنگڑے ہیں اور میں نے سمجھا کہ اس نسبت کی وجہ سے یہ اکٹھے بیٹھ گئے تھے۔تو ہر ایک مرد و عورت کے جوڑے میں کسی نسبت اور تعلق کا ہونا ضروری ہے کند ہم جنس باہم جنس پرواز۔تعلق تب ہی ہو سکتا ہے کہ مرد و عورت کی آپس میں نسبت ہو۔اگر شریف کو وضیع سے جو ڑ دیا جائے تو اس کا بہت بڑانقصان ہوگا۔اگر کسی بیچاری احمدی لڑکی کا ایسی جگہ رشتہ کر دیا جائے کہ اس کا خاوند دین سے محض ناواقف ہو نماز نہ پڑھتا ہو دوسرے شرعی احکام کی اسے خبر نہ ہو تو اس کے لئے کتنی مشکل ہوگی۔کیا وہ بیچاری اپنی زندگی آرام سے بسر کر سکے گی ہرگز نہیں۔حدیث میں آیا ہے کہ اگر خاوند اپنی بیوی کو صحبت کے لئے بلائے اور وہ نہ آئے تو ساری رات اس پر لعنت برستی رہتی ہے۔ادھر خاوند کی اس قدر فرمانبرداری کاحکم ہے ادھر اس قدر اختلاف ہو تو ایسی عورت مصیبت میں پڑے گی یا نہ پڑے گی اور ایسے گھر میں امن کس طرح رہ سکتاہے۔نسب کے متعلق آنحضرت ﷺ کا فیصلہ : آنحضرت ﷺ کی طرز کلام بھی کیسی پیاری ہے کہ ہر ایک جو فطرت صحیحہ رکھتا ہے سن کر آپ پر قربان ہو جاتا ہے۔اہل عرب میں حسب نسب کا بڑا رواج تھا اس لئے صحابہ ؓ نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا یا رسول اﷲ سب سے شریف کون ہے اس سے ان کا یہ منشاء تھا کہ آپ چند قبیلوں کے نام لے دیں گے اور انہیں اچھا سمجھا جائے گا آپ نے فرمایا سب سے شریف وہی ہے جو سب سے زیادہ نیک اور متقی ہو۔انہوں نے عرض کیا یا رسول اﷲ ہمارے سوال کا یہ مطلب نہ تھا۔فرمایا تو پھرسب سے شریف یوسف تھا کیونکہ یوسف نبی تھا اس کا باپ نبی تھا اس کے باپ کا باپ نبی تھا۔سبحان اﷲ کیا ہی لطیف طرزسے آپ ﷺ نے صحابہ ؓ کے سوال کا جواب دیا کہ ان کی بات کا جواب بھی آگیا ارو ان کی دل شکنی بھی نہ ہوئی انہوں نے کہا یا رسول اﷲ ہمارا یہ مطلب بھی نہیں تھا۔فرمایا اچھا تو تم لوگ قبائل عرب کے متعلق سوا ل کرتے ہو۔ان میں سے جو جاہلیت میں شریف سمجھے جاتے تھے اسلام میں بھی وہی شریف ہیں مگر شرط یہ ہے کہ دین سے اچھی طرح واقف ہوں۔حدیث کے الفاظ یہ ہیں :’’ عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ اَکْرَمُ النَّاسِ۔قَالَ أَتْقَاھُمْ لِلّٰہِ۔قَالُوْا لَیْسَ عَنْ ھٰذَا نَسْأَلُکَ قَالَ فَأَکْرَمُ النَّاسِ یُوْسُفُ نَبِیُّ اللّٰہِ ابْنِ نَبِیِّ اللّٰہِ ابْنِ خَلِیْلِ اللّٰہِ۔قَالُوْالَیْسَ عَنْ ھَذَا نَسْأَلُکَ۔قَالَ فَعَنْ مَعَادِنِ الْعَرَبِ تَسَأَلُوْنِی النَّاسُ مَعَادِنُ