انوارالعلوم (جلد 2) — Page 4
۴ اسلامی سے کوئی حصہ اب منسوخ نہیں ہو سکتا۔صحابہ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنَ کے اعمال کی اقتداء کرو۔وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں اور کامل تربیت کا نمونہ تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دوسرا اجماع جو ہوا وہ وہی خلافت حقّہ راشدہ کا سلسلہ ہے۔خوب غور سے دیکھ لو اور تاریخ اسلام میں پڑھ لو کہ جو ترقی اسلام کی خلفائے راشدین کے زمانہ میں ہوئی جب وہ خلافت محض حکومت کے رنگ میں تبدیل ہوگئی تو گھٹتی گئی۔یہاں تک کہ اب جو اسلام اور اہل اسلام کی حالت ہے تم دیکھتے ہو۔تیرہ سَو سال کے بعد اللہ تعالیٰ نے اسی منہاجِ نبوۃ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وعدوں کے موافق بھیجا اور ان کی وفات کے بعد پھر وہی سلسلہ خلافت راشدہ کا چلا ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح مولانا مولوی نورالدین صاحب (ان کا درجہ اعلیٰ عِلیین میں ہو۔اللہ تعالیٰ کروڑوں کروڑ رحمتیں اور برکتیں ان پر نازل کرے جس طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی محبت ان کے دل میں بھری ہوئی اور ان کے رگ و ریشہ میں جاری تھی جنت میں بھی اللہ تعالیٰ انہیں پاک وجودوں اور پیاروں کے قُرب میں آپ کو اکٹھا کرے) اس سلسلہ کے پہلے خلیفہ تھے اور ہم سب نے اسی عقیدہ کے ساتھ ان کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔پس جب تک یہ سلسلہ چلتا رہے گا اسلام مادی اور روحانی طور پر ترقی کرتا رہے گا۔اِس وقت جو تم نے پکار پکار کر کہا ہے کہ میں اِس بوجھ کو اُٹھاؤں اور تم نے بیعت کے ذریعہ اظہار کیا ہے میں نے مناسب سمجھا کہ میں تمہارے آگے اپنے عقیدہ کا اظہار کروں۔میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ میرے دل میں ایک خوف ہے اور اپنے وجود کو بہت ہی کمزور پاتا ہوں۔حدیث میں آیا ہے کہ تم اپنے غلام کو وہ کام مت بتاؤ جو وہ کر نہیں سکتا۔تم نے مجھے اِس وقت غلام بنانا چاہا ہے تو وہ کام مجھے نہ بتانا جو میں نہ کر سکوں۔میں جانتا ہوں کہ میں کمزور اور گنہگار ہوں میں کس طرح دعویٰ کر سکتا ہوں کہ دنیا کی ہدایت کرسکوں گا اور حق اور راستی کو پھیلا سکوں گا۔ہم تھوڑے ہیں اور اسلام کے دشمنوں کی تعداد بہت زیادہ ہے مگر اللہ تعالیٰ کے فضل اور کرم اور غریب نوازی پر ہماری امیدیں بے انتہاء ہیں۔تم نے یہ بوجھ مجھ پر رکھا ہے تو سنو! اِس ذمہ داری سے عُہدہ برآ ہونے کے لئے میری مدد کرو اور وہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ سے فضل اور توفیق چاہو اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور فرمانبرداری میں میری اطاعت کرو۔میں انسان ہوں اور کمزور انسان۔مجھ سے کمزوریاں ہوں گی تو تم چشم پوشی کرنا۔تم سے غلطیاں ہوں گی میں خدا تعالیٰ کو حاضر ناظر سمجھ کر عہد کرتا ہوں کہ میں چشم پوشی اور درگزر کروں گا اور میرا