انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 210 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 210

۲۱۰ اس لئے ہیں کہ غیر احمدی تو ناراض ہیں اس لئے وہ انہیں اپنی لڑکیاں نہیں دیتے۔پھر ایک گاؤں میں رہنے والے لوگ ایک دوسرے کو خواہ وہ غریب ہی ہوں اپنی لڑکیاں دے دیا کرتے ہیں کہ لڑکی اپنے گھر میں ہی رہے گی لیکن احمدی ایک جگہ نہیں بلکہ کسی کسی گاؤں میں ہیں اور وہ بھی بہت تھوڑے اس لئے اگر احمدی احمدیوں کو ہی اپنی لڑکیاں دیں تو انہیں دور دراز دینی پڑتی ہیں اور دور رہنے والوں کے حالات اور عادات کو انہیں بہت تجسّس سے دیکھنا ہوتا ہے۔لڑکے والے یہ دیکھتے ہیں کہ لڑکی ایسی ہو ایسی ہو تب شادی کی جائے اور لڑکی والے کہتے ہیں کہ جب لڑکی دور بھیجنی ہے تو پہلے تو لڑکا بھی کوئی اچھی حیثیت کا ہونا چاہئے اس لئے اس دیر میں اور مشکل سے شادیاں ہوتی ہیں۔پھر اگر لڑکی کو کوئی دیر تک بٹھائے رکھے تو بدکاری کا خوف د امن گیر ہوتا ہے کیونکہ زمانہ بہت نازک ہے۔پھر دوسرے لوگ اگر اس کی پرواہ نہ کریں تو نہ کریں ہمیں تو اس کا بہت خیال ہے کیونکہ ہم نے تو دنیا کی بدیاں دور کرنی ہیں۔غرض کہ شادی کے معاملہ میں احمدیوں کو بہت سی تکالیف ہیں اور بعض کمزور طبائع کے لوگ ان تکالیف کی وجہ سے اپنی لڑکیوں کی شادی غیر احمدیوں کے ہاں ہی کر دیتے ہیں۔مجھے اس بات کا بڑا فکر رہتا ہے کیونکہ غیر احمدیوں کو لڑکی دینے سے بڑا نقصان پہنچتا ہے اور علاوہ اس کے کہ وہ نکاح جائز ہی نہیں۔لڑکیاں چونکہ طبعاً کمزور ہوتی ہیں اور ان کی تربیت اعلیٰ پیمانہ پر نہیں ہوئی ہوتی اس لئے وہ جس گھرانے میں بیاہی جاتی ہیں اسی کے خیالات و اعتقادات کو اختیار کر لیتی ہیں اور اس طرح اپنے دین کو برباد کر لیتی ہیں اور اگر وہ پختہ رہیں تو میاں بیوی میں ہمیشہ جنگ رہتی ہے کیونکہ اختلاف عقائد اس محبت کو تباہ کر دیتا ہے جو میاں اور بیوی میں ہونی چاہئے۔اور اس طرح ان کے دل کا آرام اور چین جاتا رہتاہے۔بعض لوگ حضرت مسیح موعودؑ کے حکم کو پورا کرنے کے لئے یوں کر لیتے ہیں کہ جس لڑکے سے اپنی لڑکی کا نکاح منظور ہوتا ہے اس کی نسبت مشہور کر دیتے ہیں کہ وہ تو احمدی ہی ہے یا یہ کہ وہ احمدی تو ہو چکا ہے لیکن بیعت کرنی باقی ہے۔بس قادیان جا کر بیعت کر لے گا۔بعض اسے کہہ کہلا کر بیعت کا خط بھی لکھوا دیتے ہیں یا وہ قادیان آکر بیعت بھی کر لیتا ہے یا بعض لڑکے شادی کی غرض سے لڑکی والوں کو اس طرح دھوکہ دے دیتے ہیں کہ لوہم نے بیعت کا خط لکھ دیا ہے اب آپ اپنی لڑکی دے دیں لیکن ایسے نکاح بھی کبھی سکھ کا باعث نہیں ہوتے کیونکہ ان میں نیت درست نہیں ہوتی۔اور جو شخص نکاح کی خاطر سلسلہ میں داخل ہوتا ہے نہ تو خدا تعالیٰ کو اس کی ضرورت ہے اور نہ وہ اپنی بیعت پر قائم ہی رہتا ہے اور نہ اپنے چال چلن کی اصلاح کرتا ہے اور اگر بیعت پر قائم بھی رہے تو احمدیوں کے لئے ابتلاء کا موجب ہوتا ہے ایسے