انوارالعلوم (جلد 2) — Page 3
۳ بسم الله الرحمن الرحيم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم کلماتِ طیبات (حضرت مصلح موعود کی ’’بیعت خلافت‘‘ کے وقت پہلی تقریر) (فرمودہ ۱۴؍ مارچ ۱۹۱۴ء) اَشْھَدُ اَنْ لاَّاِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ سنو!دوستو! میرا یقین اور کامل یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔میرے پیارو! پھر میرا یقین ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں۔میرا یقین ہے کہ آپ کے بعد کوئی شخص نہیں آ سکتا جو آپ کی دی ہوئی شریعت میں سے ایک شوشہ بھی منسوخ کر سکے۔میرے پیارو! میرا وہ محبوب آقا سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ایسی عظیم الشان شان رکھتا ہے کہ ایک شخص اس کی غلامی میں داخل ہو کر کامل اِتباع اور وفاداری کے بعد نبیوں کا رُتبہ حاصل کر سکتا ہے۔یہ سچ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ایسی شان اور عزت ہے کہ آپؐ کی سچی غلامی میں نبی پیدا ہو سکتا ہے یہ میرا ایمان ہے اور پورے یقین سے کہتا ہوں۔پھر میرا یقین ہے کہ قرآن مجید وہ پیاری کتاب ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی اور وہ خاتم الکتب اور خاتم شریعت ہے۔پھر میرا یقین کامل ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام وہی نبی تھے جس کی خبر مسلم میں ہے اور وہی امام تھے جس کی خبر بخاری میں ہے۔میں پھرکہتا ہوں کہ شریعت