انوارالعلوم (جلد 2) — Page 110
۱۱۰ زبان کے سمجھنے والے ہیں ہزاروں لاکھوں حفاظ اور لاکھوں نسخوں سے جو دنیا کے ہر ملک میں پھیلےہوئے ہیں اس کی حفاظت کی گئی اور اب تک خدائے تعالیٰ کا وعدہ بڑے زور سے پورا ہو رہا ہے پس جبکہ لفظی حفاظت کا وعدہ پورا ہوا ہے تو کیونکر ہو سکتا ہے کہ معنوی حفاظت کا وعدہ پورا نہ ہو۔جوکتاب صرف تحریری ہو اور اس پر عمل کرنے والے مفقود ہو جائیں اسے محرف ومبدل کتب پر کوئی فضیلت نہیں کیونکہ جس طرح محرف و مبدل کتب متروک العمل ہوگئی ہیں اسی طرح وہ کتاب بھی متروک العمل ہے جس کی حقیقت سے لوگ آگاہ ہی نہیں۔پس ضرور ہے کہ قرآن کریم جس غرض کے لئے آیا ہے اسے پورا کرنے والی ایک جماعت ہمیشہ موجود ہو اور جب بھی لوگ اسے غافل ہوں فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسا شخص بھیجا جائے جو معلم بنکر لوگوں کو اصل حقیقت سے آگاہ کرے اور سچے راستہ پر لائے احادیث نبویہ بھی میرے اس خیال کی تائید کرتی ہیں کیونکہ آنحضرت ﷺفرماتے ہیں کہ ان الله يبعث لهذه الأمة على رأس كل مائة سنة من یجدد لها دينها (سنن ابو داود کتاب الملاحم باب ما يذكر في قرن المائة،) اللہ تعالی ٰاس امت میں ہر صدی کے سر پر ایک ایسا انسان مبعوث فرمائے گا اور دین اسلام کی تجدید کرے گایعنی لوگوں نے اپنے خیالات اور اپنے ارادوں کے دخل سے دین اسلام میں جو تغیر پیداکردیئے ہونگے وہ مجد دین ان کو مٹائیں گے اور اصل اسلام کو پھر قائم کریں گے اور ان کے ذریعہ ایسی جماعتیں پیدا ہوتی رہیں گی جو قرآن شریف کے معانی کی حفاظت کریں گی یعنی جس غرض کے لئے قرآن کریم بھیجا گیا ہے اسکو پورا کریں گی اور اسلام ایک زندہ مذہب رہے گا۔یہی وہ فوقیت ہے جو اسلام کو دوسرے مذاہب پر حاصل ہے کیونکہ اگر قصوں اور روایتوں کےساتھ کسی مذہب کی فضیلت ثابت ہو سکتی ہے تو اسلام سے زیادہ ہندوؤں کے ہاں روایتیں اور قصےہیں۔اگر ہم معجزات سنائیں گے تو ہنود ان سے بڑھ کر معجزات بیان کریں گے اور مسیحی بھی اپنےمذہب کی تائید میں معجزات کا ایک طومار پیش کردیں گے اور وہ ایسا ہی کرتے بھی ہیں بلکہ اسلام پرتوغیرمذاہب اعتراض کرتے ہیں کہ اس میں معجزات کا ظہور ہؤاہی نہیں حتیّٰ کہ یورپ کے اعتراضات کے وزن سے دب کر بعض مسلم ریفار مربھی اس باطل عقیدہ میں پادریوں کے ہمنوا ہو گئے ہیں۔پس روایتوں اور قصوں کے ساتھ غیرمذاہب پر جیتنانا ممکن ہے کیونکہ روایتیں ان کے ہاں بھی بہت سی ہیں اور کوئی وجہ نہیں کہ ہم اپنی روایات غیروں سے منوائیں اور ان کی روایات کو رد کردیں اور اگر ہم اپنی روایات کی صداقت کا ثبوت بھی دینے گئیں تو یہ ایک ایسالمباکام ہو گا کہ برسوں اسی۔