انوارالعلوم (جلد 2) — Page 61
انوار العلوم جلد ۲ 41 منصب خلافت ذلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَسِقُونَ ( النور : ۵۲) يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا کے ایک معنی تو میں اپنے اس ٹریکٹ میں لکھ چکا ہوں جو ” کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے“ کے عنوان سے شائع ہوا ہے۔ ایک دوسرے معنی بھی اللہ تعالیٰ نے مجھے سمجھاتے ہیں اور وہ یہ ہیں کہ اس آیت میں اوّل تو خدا تعالیٰ کے وعدہ کا ذکر کیا گیا ہے کہ وَعَدَ اللہ پھر خلافت دینے کے وعدے کو لام تاکید اور نون تاکید سے مؤکد کیا۔ اور بتایا کہ خدا ایسا کرے گا اور ضرور کرے گا۔ پھر بتایا کہ خدا ضر و ر ضروران خلفاء کو تمکین عطا کرے گا۔ اور پھر فرمایا کہ خدا ضرور ضرور ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا ۔ غرض کہ تین بار لام تاکید اور نون تاکید لگا کر اس بات پر زور دیا ہے کہ ایسا خدا ہی کرے گا کسی کا اس میں دخل نہ ہوگا ۔ اس کی غرض بتائی کہ ایسا کیوں ہو گا ؟ اس لئے کہ يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا اس کے نتیجہ میں وہ میری ہی عبادت کریں گے کسی کو میرا شریک نہ قرار دیں گے یعنی اگر انسانی کوشش سے خلیفہ بنے تو خلیفہ کو گروہ سے دیتے رہنا پڑے کہ ان لوگوں نے مجھ پر احسان کیا ہے۔ پس ہم سب کچھ خود ہی کریں گے تا شرک خلفاء کے قریب بھی نہ پھٹک سکے۔ اور جب خلیفہ اُس وقت اور قدرت کو دیکھے گا جس کے ذریعہ خدا نے اسے قائم کیا ہے تو اسے وہم بھی نہیں ہو سکتا کہ اس میں کسی دوسرے کا بھی ہاتھ ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا يعنى خدا تعالی نے بتائے ہیں ۔ پس خلیفہ خدا مقرر کرتا ہے اور کوئی نہیں جو اس کو مٹا سکے ۔ بعض کہتے ہیں کہ اگر خلیفے نہ ہوں تو کیا مسلمانوں کی نجات نہ ہو گی ؟ جب خلافت نہ رہی تو اس وقت کے مسلمانوں کا پھر کیا حل ہو گا ؟ یہ ایک دھوکا ہے دیکھو قرآن مجید میں وضو کے لئے ہاتھ دھونا ضروری ہے لیکن اگر کسی کا ہاتھ کٹ جائے تو اس کا وضو بغیر ہاتھ دھوئے کے ہو جائے گا۔ اب اگر کوئی شخص کسی ایسے ہاتھ کئے آدمی کو پیش کر کے کہے کہ دیکھو اس کا وضو ہو جاتا ہے یا نہیں ؟ اگر جب یہ کہیں کہ ہاں ہو جاتا ہے تو وہ کہے کہ بس اب میں بھی ہاتھ نہ دھوؤں گا تو کیا وہ راستی پر ہو گا؟ ہم کہیں گے کہ اس کا ہاتھ کٹ گیا مگر تیرا تو موجود ہے۔ پس یہی جواب ان معترضین کا ہے ہم تو انہیں کہتے ہیں کہ ایک زمانہ میں جابر بادشاہوں نے تلوار کے زور سے خلافت راشدہ کو قائم نہ ہونے دیا کیونکہ ہر کام ایک مدت کے بعد مٹ جاتا ہے پس جب خلافت تلوار کے زور سے مٹادی گئی تو اب کسی کو گناہ نہیں کہ وہ بیعت خلیفہ کیوں نہیں کرتا ۔ مگر اس وقت وہ کونسی تلوار ہے جو ہم کو قیام خلافت سے ر سے روکتی ہے۔ اب بھی اگر کوئی حکومت زبر دستی خلافت کے سلسلہ کو روک دے تو یہ رو