انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 61 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 61

۶۱ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ۪-وَ لَیُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِیْنَهُمُ الَّذِی ارْتَضٰى لَهُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًاؕ-یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِكُوْنَ بِیْ شَیْــٴًـاؕ-وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ (النور:۵۶) یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِكُوْنَ بِیْ شَیْــٴًـا کے ایک معنی تو میں اپنے اس ٹریکٹ میں لکھ چکا ہوں جو ’’کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا ہے۔ایک دوسرے معنی بھی اللہ تعالیٰ نے مجھے سمجھائے ہیں اور وہ یہ ہیں کہ اس آیت میں اوّل تو خدا تعالیٰ کے وعدہ کا ذکر کیا گیا ہے کہ وعدہ اللہ۔پھر خلافت دینے کے وعدے کو لامِ تاکید اور نونِ تاکید سے مؤکد کیا اور بتایا کہ خدا ایسا کرے گا اور ضرور کرے گا۔پھر بتایا کہ خدا ضرور ضرور ان خلفاء کو تمکین عطا کرے گا اور پھر فرمایا کہ خدا ضرور ضرور ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا۔غرض کہ تین بار لامِ تاکید اور نونِ تاکید لگا کر اس بات پر زور دیا ہے کہ ایسا خدا ہی کرے گا کسی کااس میں دخل نہ ہوگا۔اس کی غرض بتائی کہ ایسا کیوں ہوگا؟ اس لئے کہ یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِكُوْنَ بِیْ شَیْــٴًـا اس کے نتیجہ میں وہ میری ہی عبادت کریں گے کسی کو میرا شریک نہ قرار دیں گے یعنی اگر انسانی کوشش سے خلیفہ بنے تو خلیفہ کو گروہ سے دبتے رہنا پڑے کہ ان لوگوں نے مجھ پر احسان کیاہے۔پس ہم سب کچھ خود ہی کریں گے تا شرک خلفاء کے قریب بھی نہ پھٹک سکے۔اور جب خلیفہ اس وقت اور قدرت کو دیکھے گا جس کے ذریعہ خدا نے اسے قائم کیا ہے تو اُسے وہم بھی نہیں ہو سکتا کہ اس میں کسی دوسرے کا بھی ہاتھ ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِكُوْنَ بِیْ شَیْــٴًـا یہ معنی خدا تعالیٰ نے بتائے ہیں پس خلیفہ خدا مقرر کرتا ہے اور کوئی نہیں جو اس کو مٹا سکے۔بعض کہتے ہیں کہ اگر خلیفے نہ ہوں تو کیا مسلمانوں کی نجات نہ ہوگی جب خلافت نہ رہی تو اُس وقت کے مسلمانوں کا پھر کیا حال ہوگا؟ یہ ایک دھوکا ہے دیکھو قرآن مجید میں وضو کے لئے ہاتھ دھونا ضروری ہے لیکن اگر کسی کا ہاتھ کٹ جائے تو اس کا وضو بغیر ہاتھ دھوئے کے ہو جائے گا۔اب اگر کوئی شخص کسی ایسے ہاتھ کٹے آدمی کو پیش کر کے کہے کہ دیکھو اس کا وضو ہو جاتا ہے یا نہیں؟ جب یہ کہیں کہ ہاں ہو جاتا ہے تو وہ کہے کہ بس اب میں بھی ہاتھ نہ دھوؤں گا تو کیا وہ راستی پر ہوگا؟ ہم کہیں گے کہ اس کا ہاتھ کٹ گیا مگر تیرا تو موجود ہے۔پس یہی جواب اِن معترضین کا ہے۔ہم انہیں کہتے ہیں کہ ایک زمانہ میں جابر بادشاہوں نے تلوار کے زور سے خلافتِ راشدہ کو قائم نہ ہونے دیا کیونکہ ہر کام ایک مدت کے بعد مٹ جاتا ہے پس جب خلافت تلوار کے زور سے مٹا دی گئی تو اب کسی کو گناہ نہیں کہ وہ بیعت خلیفہ کیوں نہیں کرتا۔مگر اِس وقت وہ کونسی تلوار ہے جو ہم کو قیامِ خلافت سے روکتی ہے۔اب بھی اگر کوئی حکومت زبردستی خلافت کے سلسلہ کو روک دے تو یہ