انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 59 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 59

۵۹ جو ساتھ ہیں ان میں سے کسی نے کہا کہ جانے دو کیا حرج ہے رُقعہ لکھ کر ڈال دو۔جب بچ جائیں گے تو پھر توبہ کر لیں گے۔میں نے کہا ہرگز نہیں ہوگا۔اس پر اُس نے چُھپ کر خود رُقعہ لکھ کر ڈالنا چاہا میں نے دیکھ لیا تو پکڑ کر پھاڑنا چاہا۔وہ چھپاتا تھا آخر اس کشمکش میں سمندر میں گر پڑے مگر میں نے وہ رُقعہ لے کر پھاڑ ڈالا اور پھر کشتی میں بیٹھ گیا تو میں نے دیکھاکہ وہ کشتی اس بھنور سے نکل گئی۔اس کھلی کھلی ہدایت کے بعد میں خدا کی پناہ چاہتا ہوں کہ اس کی مخلوق سے ڈروں۔میں دعا کرتا ہوں کہ یہ کشتی جس میں میں اب سوار ہوں اس بھنور سے نکل جائے اور مجھے یقین ہے کہ ضرور نکل جائے گی۔چھوٹی عمر ہے منکرین خلافت یہ بھی کہتے ہیں کہ عمر چھوٹی ہے۔اس پر مجھے ایک تاریخی واقعہ یاد آگیا۔کوفہ والے بڑی شرارت کرتے تھے جس گورنر کو وہاں بھیجا جاتا وہ چند روز کے بعد اس کی شکائتیں کر کے اُس کو واپس کر دیتے۔حضرت عمرؓ فرمایا کرتے تھے جب تک حکومت میں فرق نہ آئے ان کی مانتے جاؤ۔آخر جب ان کی شرارتیں حد سے گزرنے لگیں تو حضرت عمرؓ نے ایک گورنر جن کا نام غالباً ابن ابی لیلیٰ تھا اور جن کی عمر ۱۹ برس کی تھی کوفہ میں بھیجا۔جس وقت یہ وہاں پہنچے تو وہ لوگ لگے چہ میگوئیاں کرنے کہ عمرؓ کی عقل (نَعُوْذُبِاللّٰہِ) ماری گئی جو ایک لڑکے کو گورنر کر دیا۔اور اُنہوں نے تجویز کی کہ ’’گربہ کشتن روزِ اوّل‘‘ پہلے ہی دن اس گورنر کو ڈانٹنا چاہیے اور اُنہوں نے مشورہ کر کے یہ تجویز کی کہ پہلے ہی دن اس سے اس کی عمر پوچھی جائے۔جب دربار ہوا تو ایک شخص بڑی متین شکل بنا کر آگے بڑھا اور بڑھ کر کہا کہ حضرت! آپ کی عمر کیا ہے؟ ابن ابی لیلیٰ نے نہایت سنجیدگی سے جواب دیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب صحابہؓ کے لشکر پر اُسامہؓ کو افسربنا کر شام کی طرف بھیجا تھا تو جو اُس وقت اُن کی عمر تھی اُس سے میں دو سال بڑا ہوں (اُسامہؓ کی عمراُس وقت سترہ سال کی تھی اور بڑے بڑے صحابہؓ اُن کے ماتحت کئے گئے تھے) کوفہ والوں نے جب یہ جواب سنا تو خاموش ہوگئے او رکہا کہ اِس کے زمانہ میں شور نہ کرنا۔اِس سے یہ بھی حل ہو جاتا ہے کہ چھوٹی عمر والے کی بھی اطاعت ہی کریں جب وہ امیر ہو۔حضرت عمرؓ جیسے انسان کو سترہ سال کے نوجوان اسامہؓ کے ماتحت کر دیا گیا تھا۔میں بھی اِسی رنگ میں جواب دیتا ہوں کہ میری عمر تو ابن ابی لیلیٰ سے بھی سات برس زیادہ ہے۔ایک اور اعتراض کا جوابایک اور اعتراض کرتے ہیں مگر خدا تعالیٰ نے اس کا جواب بھی تیرہ سَو سال سے پہلے ہی دے دیا ہے۔کہتے ہیں شَاوِرْهُمْ فِی الْاَمْرِ