انوارالعلوم (جلد 2) — Page 58
انوار العلوم جلد ۲ ۵۸ منصب خلافت پوچھ ۔ مختلف مشوروں کو سن کر جس بات کا تو قصد کرے (عَزَمت کے معنی ہیں جس بات کا تو پختہ ارادہ کرے ) اس پر عمل کر اور کسی سے نہ ڈر بلکہ خدا تعالیٰ پر توکل کر۔ عجیب نکتہ شاورھم کے لفظ پر غور کرو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مشورہ لینے والا ایک ہے دو بھی نہیں اور جن سے مشورہ لینا ہے وہ بہر حال تین یا تین سے زیادہ ہوں ۔ پھر وہ اس مشورہ پر غور کرے پھر حکم ہے فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ جس بات پر عزم کرے اس کو پورا کرے اور کسی کی پرواہ نہ کرے۔ حضرت ابوبا ابوبکرؓ کے زمانہ میں اس عز عزم کی خوب نظیر ملتی ہے۔ جب لوگ مرتد ہونے لگے تو مشورہ دیا گیا کہ آپ اس لشکر کو روک لیں جو اسامہ کے زیر کمانڈ جانے والا تھا مگر انہوں نے جواب دیا کہ جو لشکر آنحضرت صل اللہ نے بھیجا ہے میں اسے والا ، واپس نہیں کر سکتا ۔ ابو قحافہ کے بیٹے کی طاقت نہیں کہ ایسا کر سکے ۔ پھر بعض کو رکھ بھی لیا چنانچہ حضرت عمر بھی اسی لشکر میں جارہے تھے ان کو روک لیا گیا۔ میں یہ ایک مصلحت سے کہتا ہوں پھر زکوۃ کے متعلق کہا گیا کہ مرتد ہونے سے بچانے کے لئے ان کو معاف کر دو ۔ انہوں صلى الله نے جواب دیا کہ اگر یہ رسول اللہ ﷺ کو اونٹ باندھنے علی کو اونٹ باندھنے کی ایک رسی بھی دیتے تھے تو وہ بھی لوں گا۔ اور اگر تم سب مجھے چھوڑ کر چلے جاؤ اور مرتدین کے ساتھ جنگل کے درندے بھی مل جائیں تو میں اکیلا ان سب کے ساتھ جنگ کروں گا ۔ یہ عزم کا نمونہ ہے پھر کیا ہوا تم جانتے ہو؟ خدا تعالیٰ نے فتوحات کا ایک دروازہ کھول دیا ۔ یا د رکھو جب خدا سے انسان ڈرتا ہے تو پھر مخلوق کا رعب اس کے دل پر اثر نہیں کر سکتا ۔ شرک کا دیا ہے مسئلہ کیسے سمجھا دیا مجھےاللہ تعالی نے اپنے فضل سے شرک کا مسئلہ خوب سمجھا دیا ہے۔ ایک رویا کے ذریعہ اس کو حل کر دیا۔ میں نے دیکھا کہ میں مقبرہ بہشتی میں گیا ہوں ۔ واپس آتے وقت ایک بڑا سمندر دیکھا جو پہلے نہ تھا اس میں ایک کشتی تھی اس میں بیٹھ گیا دو آدمی اور میں ایک جگہ پہنچ کر کشتی چکر کھانے لگی ۔ اس سمندر میں سے ایک سرنمودار ہوا، اس نے کہا کہ یہاں ایک پیر صاحب کی قبر ہے تم ان کے نام ایک رقعہ لکھ کر ڈال دو تا کہ یہ کشتی صحیح سلامت پار نکل جائے ۔ میں نے کہا کہ یہ ہرگز نہیں ہو سکتا۔ وہ آدمی