انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 50 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 50

انوار العلوم جلد ۲ ۵ منصب خلافت میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بتا دیا ہے کہ قادیان کی زمین بابرکت ہے میں نے دیکھا کہ ایک شخص عبد الصمد کھڑا ہے اور کہتا ہے۔ مبارک ہو قادیان کی غریب جماعت ا تم پر خلافت کی رحمتیں یا برکتیں نازل ہوتی ہیں۔ یہ بالکل درست ہے کہ مسیح موعود علیہ السلام کے مقامات دیکھنے سے ایک رقت پیدا ہوتی ہے اور دعا کی تحریک ہوتی ہے اس لئے قادیان میں زیادہ آنا چاہئے ۔ پھر دعاؤں کیلئے تعلق کی ضرورت ہے حضرت صاحب کو میں نے دیکھا ہے مگر حضرت خلیفہ المسیح بچتے تھے اور میں خود بھی بچتا ہوں ۔ حضرت صاحب بعض لوگوں کو کہہ دیا کرتے تھے کہ تم ایک نذر مقرر کرو میں دعا کروں گا۔ یہ طریق محض اس لئے اختیار کرتے تھے کہ تعلق بڑھے۔ اس کے لئے حضرت صاحب نے بارہا ایک حکایت سنائی ہے کہ ایک بزرگ سے کوئی شخص دعا کرانے گیا اس کے مکان کا قبالہ گم ہو گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں دعا کروں گا مگر پہلے میرے لئے حلوہ لاؤ۔ وہ شخص حیران تو ہو اگر دعا کی ضرورت تھی حلوہ لینے چلا گیا اور حلوائی کی دُکان سے حلوہ لیا۔ وہ جب حلوہ ایک کاغذ میں ڈال کر دینے لگا تو وہ چلایا کہ اس کو پھاڑ یو نہیں یہ تو میرے مکان کا قبالہ ہے اس کے لئے وہ دعا کرانا چاہتا تھا۔ غرض وہ حلوہ لے کر گیا اور بتایا کہ قبالہ مل گیا تو اس بزرگ نے کہا میری غرض حلوہ سے صرف یہ تھی کہ تعلق پیدا ہو۔ غرض دعا کیلئے ایک تعلق کی ضرورت ہے اور اس کے لئے اتنا ہی کہتا ہوں کہ خطوط کے ذریعہ یاد دلاتے رہوتا کہ تم مجھے یاد رہو۔ اب يُزَكِّيهِمْ کے دوسرے معنی لو۔ جس میں يُزَكِّيهِمُ کے دوسرے معنی غرباء ومساکین کی خبر گیری داخل ہے لوگ یہ تو نہیں یز جانتے کہ میرے پاس ہے یا نہیں مگر جب وہ جانتے ہیں کہ میں خلیفہ ہو گیا ہوں تو حاجتمند تو آتے ہیں اور یہ سیدھی بات ہے کہ جو شخص کسی قوم کا سردار بنے گا اس کے پاس حاجتمند تو آئیں گے۔ اس لئے شریعت نے زکوۃ کا انتظام خلیفہ کے سپرد کیا ہے۔ تمام زکوۃ اس کے پاس آنی چاہئے تا کہ وہ حاجتمندوں کو دیتا رہے۔ پس چونکہ یہ میرا ایک فرض اور کام ہے کہ میں کمزور لوگوں کی کمزوریوں وریوں کو دور کروں اس لئے ے تمہارا تمہارا فرض ہونا چاہئے کہ اس میں میرے مددگار رہو۔ ابھی تو جھگڑے ہی ختم نہیں ہوئے مگر پھر بھی کئی سو کی درخواستیں آچکی ہیں جن کا مجھے انتظام کرنا پڑتا ہے۔ جیسا کہ ابھی میں نے کہا ہے کہ یہ سلسلہ خلیفہ کے ذمہ رکھا ہے کہ ہر قسم کی کمزوریاں دور کرے خواہ