انوارالعلوم (جلد 2) — Page 45
۴۵ مشکل ہوتی ہے اس لئے خلیفہ کے کاموں میں تعلیم شرائع ضروری ہے۔میں نے ایک شخص کو دیکھا جو بیعت کرنے لگا۔اُس کو کلمہ بھی نہیں آتا تھا۔اس لئے ضروری ہے کہ ہماری جماعت کا کوئی فرد باقی نہ رہے جو ضروری باتیں دین کی نہ جانتا ہو۔پس اس تعلیمِ شرائع کے انتظام کی ضرورت ہے۔یہ کام کچھ تو مبلغین اور واعظین سے لیا جاوے۔وہ ضروری دینی مسائل سے قوم کو واقف کرتے رہیں۔میں نے ایسے آدمیوں کو دیکھا ہے جو قوم میں لیڈر کہلاتے ہیں وہ نماز نہیں پڑھنا جانتے اور بعض اوقات عجیب عجیب قسم کی غلطیاں کرتے ہیں اور نمازیں پڑھنی نہیں آتی ہیں اور یقینا نہیں آتی ہیں۔کوئی کہہ دے گا کہ یہ (تعدیل ارکان) فضول ہیں میں کہتا ہوں کہ خدا نے کیوں فرمایا یعلمھم الکتاب والحکمة پس یہ ضروری چیزہے اور میں خدا تعالیٰ کے فضل سے ہر ایک کی حکمت بیان کر سکتا ہوں۔میں نے حضرت صاحب کو دیکھا ہے کہ جراب میں ذرا سوراخ ہو جاتا تو فوراً اُس کو تبدیل کر لیتے۔مگر اب میں دیکھتا ہوں کہ لوگ ایسی پھٹی ہوئی جرابوں پر بھی جن کی ایڑی اور پنجہ دونوں نہیں ہوتے مسح کرتے چلے جاتے ہیں یہ کیوں ہوتا ہے؟ شریعت کے احکام کی واقفیت نہیں ہوتی۔اکثر لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ رخصت اور جواز کے صحیح محل کو نہیں سمجھتے۔مجھے ایک دوست نے ایک لطیفہ سنایا کہ کسی مولوی نے ریشم کے کنارے والا تہہ بند پہنا ہوا تھا اور وہ کنارہ بہت بڑا تھا۔میں نے ان سے کہا کہ ریشم تو منع ہے۔مولوی صاحب نے کہا کہ کہاں لکھا ہے؟ میں نے کہا کہ آپ لوگوں سے ہی سنا ہے کہ چار انگلیوں سے زیادہ نہ ہو؟ مولوی صاحب نے کہا کہ چار انگلیاں ہماری تمہاری نہیں بلکہ حضرت عمرؓ کی۔اُن کی چار انگلیاں ہماری بالشت کے برابر تھیں۔اسی طرح انسان خیالی شریعتیں قائم کرتا ہے۔یہ خوف کا مقام ہے ایسی باتوں سے پرہیز کرنا چاہیے اور یہ اُسی وقت ہو سکتا ہے جب انسان حدودِ شرائع سے واقف ہو اور خدا کا خوف دل میں ہو۔یہ مت سمجھو کہ چھوٹے چھوٹے احکام میں اگر پرواہ نہ کی جاوے تو کوئی حرج نہیں یہ بڑی بھاری غلطی ہے جو شخص چھوٹے سے چھوٹے حکم کی پابندی نہیں کرتا وہ بڑے سے بڑے حکم کی بھی پابندی نہیں کر سکتا۔خدا کے حکم سب بڑے ہیں بڑوں کی بات بڑی ہی ہوتی ہے جن احکام کو لوگ چھوٹا سمجھتے ہیں ان سے غفلت اور بے پرواہی بعض اوقات کُفر تک پہنچا دیتی ہے۔خدا تعالیٰ نے بعض چھوٹے چھوٹے احکام بتائے ہیں مگر ان کی عظمت میں کمی نہیں آتی۔طالوت کا واقعہ قرآن مجید میں موجود ہے۔ایک نہر کے ذریعہ قوم کا امتحان ہوگیا۔سیر ہو کر پینے والوں کو کہہ دیا فلیس منیاب ایک سطحی خیال کا آدمی تو یہی کہے گا کہ پانی پی لینا کونسا جُرم