انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 608 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 608

انوار العلوم جلد ۲ الله ۶۰۸ حقيقة النبوة احمد اول ) او پر لکھ آیا ہوں اس سے نبوت میں اتناہی فرق پڑتا ہے جس قدر کسی عمومی کو سید یا پٹھان کہہ دینے سے اس کی آدمیت میں ۔ منہ اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ در حقیقت آیت لا يُظهر علی غیبہ میں ان تینوں شرائط کا مفہوم آجاتا ہے جو میں نے اوپر بیان کی ہیں اور ان تینوں شرطوں کو ایک ہی شرط بھی قرار دے سکتے ہیں لیکن چونکہ ہر ایک شخص کی سمجھ ایسی تیز نہیں ہوتی کہ وہ خود ہار یک باتوں کا استخراج کرلے اس لئے میں نے ہر شخص کے سمجھانے کے لئے تینوں باتوں کو الگ الگ بیان کر دیا ہے تاہر شخص کو سمجھنے میں دقت نہ ہو ورنہ لَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَسُولٍ کی آیت میں غلبہ علی الغیب کے معنے ہی یہ قرار دیتے ہیں کہ وہ اخبار اندارد تبشیر اپنے اندر رکھتے ہوں اور آیت الَّا مُبَشِّرِینَ وَ مُنْذِرِین در حقیقت کوئی الگ شرط نہیں لگاتی بلکہ اسی آیت کی تفسیر ہے اور نبی کا نام خدا کی طرف سے رکھا جانا بھی اسی آیت سے ثابت ہے کیونکہ غیر ی پر تواللہ تعالی کثرت سے غیب ظاہر کرتا ہی نہیں جیسا کہ آیت مذکورہ بالا سے ثابت ہے اور جبکہ اللہ تعالی رسول کور مسلہ میں اپنی طرف نسبت دیتا ہے تو یہ بات ثابت ہے کہ نام بھی وہ خود ہیں رکھتا ہے ورنہ دوسرے اشخاص کو کیا معلوم ہو سکتا ہے کہ فلاں ملخص اب اس درجہ کو پہنچ گیا اپس کثرت سے اظہار امور غیبیہ کا ہونا ایک ایسی شرط ہے جو درحقیقت ایک ہی شرط نبوت ہے اور دوسری دونوں شرطیں اس کی تشریح ہیں گو قرآن کریم سے صاف طور پر ثابت ہیں اور ہم نے ان کو الگ اس لئے بیان کیا ہے تاہر شخص کی نظر کیا ہے تاہر شخص کی نظر تلے رہیں ورنہ خطرہ تھا کہ بعض لو بعض لوگ انہیں نظر انداز کر کے ٹھوکر کھاتے ۔ منہ حضرت مسیح موعود نے بعد میں خود محدث کے نام کو ترک کر دیا ہے چنانچہ فرماتے ہیں " اگر خدا تعالی سے غیب کی خبریں پانے والا ہی کا نام نہیں رکھتا تو پھر جلاؤ کسی نام سے اس کو پکارا جائے اگر کہو اس کا نام محدث رکھنا چاہئے تو میں کہتا ہوں تحدیث کے معنے کسی لغت کی کتاب میں اظہار غیب نہیں " ایک غلطی کا ازالہ مدت - روحانی خزائن جلد ۱ ص ۲۰ ) ای طرح فرمایا ہے کہ اس وقت تک اس امت میں کوئی اور شخص نبی کے نام پانے کا مستحق نہیں گزرا حالانکہ محدث گزرے ہیں جس سے معلوم ہوا کہ حضور نے آئندہ اپنے آپ کو محدث سے بڑے درجہ والا قرار دیا ہے۔ محمود احمد جزئی نبوت کا لفظ بھی حضرت نے ۱۹۰۰ء کے بعد سے ترک کر دیا ہے محمود احمد - سلام اس حوالہ سے بھی یہی ظاہر ہے کہ آپ نے شریعت والی نبوت کا انکار کیا ہے مرزا محمود احمد اس حوالہ سے بھی ظاہر ہے کہ نبوت کی بعض اقسام کے بند ہونے کا حضرت مسیح موعود ذکر فرماتے ہیں نہ کہ نبوت بند ہونے کا کیونکہ خود فرماتے ہیں کہ مگر ایک قسم کی نبوت بند نہیں۔ هل اس عبارت کا بھی میں مطلب ہے کہ حضرت کی نبوت سے مراد کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع پاتا ہے۔ مرزا محمود احمد اس عبارت کو دیکھ کر غور کر لو کہ حوالے دینے میں مولوی صاحب نے کسی دیانت سے کام لیا ہے وہ عبارت چھوڑ ہی گئے ہیں جس میں حضرت مسیح موعود نے لکھا ہے کہ اس کثرت مکالمہ کا نام خداتعالی کی اصطلاح میں نبوت ہے۔ ا اس سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کو نبوت براہ راست نہیں ملی۔ نہ یہ کہ نبوت ہی نہیں ملی۔ امتی نبی کے معنے آگے بتائے جائیں گے۔ مرزا محمود احمد 19 علی نبی کے معنے بھی آگے بتائے جائیں گے مرزا محمود احمد۔ مجند اس حوالہ سے بھی صرف یہ مطلب نکلتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کی نبوت کی قسم کثرت مکالمہ والی ہے نہ کہ شریعت لانے والی نبوت اللہ اس حوالہ کا بھی یہی مطلب ہے کہ حضرت صاحب شریعت نہیں لائے کیونکہ حقیقی نبوت کے معنے خود آپ نے شریعت والی نبوت کئے ہیں۔ مجازی نبوت کی تشریح آگے پوری طرح آجائے گی انشاء اللہ ۔ اس میں کیا شک ہے کہ حضرت مسیح موعود ایک لحاظ سے آنحضرت ا کے بروز تھے اور ایک لحاظ سے آپ کے باغ کے ایک پھل تھے آنحضرت ﷺ کی امت میں لاکھوں آدمی گزرے ہیں جو نہایت نیک تھے پس تعداد کے لحاظ سے آپ باغ میں سے ایک پھل ہی تھے اور بارش میں سے ایک قطرہ اس سے یہ نتیجہ کس طرح نکلا کہ آپ نبی نہ تھے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میں نبوت کے مکان کی آخری اینٹ ہوں تو کیا اس سے ثابت ہوا کہ آپ چونکہ ایک اینٹ تھے اس لئے نبی نہ تھے۔ درجہ کے لحاظ سے آپ نبوت کے مکان میں جس قدر انیٹیں تھیں سب سے افضل اور اعلیٰ تھے۔ اور سب کے جامع تھے۔ لیکن تعداد کے لحاظ سے آپ ہزاروں لاکھوں میں سے ایک تھے۔ اسی طرح درجہ کے لحاظ سے مسیح موعود آنحضرت اللہ کے بروز کامل تھے۔ مگر اس لحاظ سے آنحضرت کے طفیل کروڑوں آدمی اولیاء اللہ ہو گئے آپ ان کے باغ کے ایک پھل اور بارش سے ایک قطرہ تھے۔ مرزا محمود احمد - اس کا جواب کہ صرف مسیح موعود نبی تھے یا اور بھی افراد ایسے گزرے ہیں آگے آئے گا انشاء اللہ مگر اس حوالہ سے بھی صرف یہ ظاہر