انوارالعلوم (جلد 2) — Page 605
انوار العلوم جلد ؟ ۶۰۵ حقيقة النبوة (حصہ اول ) میں تو ہم کوئی ایسا حکم نہیں دیکھتے جو بلا دلیل ہو قرآن کریم تو شروع سے لے کر آخر تک دلائل کا مجموعہ ہے اور سب دعووں کے کے ساتھ ساتھ دلیل و دیتا دیتا۔ ہے۔ سب احکام کے ساتھ ان کی حکمتیں بیان کرتا ہے۔ وہ خدا تعالیٰ کا وجود ہم سے منواتا ہے تو اس کے لئے زبردست دلائل پیش کرتا ہے ۔ وہ ملائکہ کا وجود ہم سے منواتا ہے تو اس کے لئے زبردست دلائل ہمارے سامنے پیش کرتا ہے۔ وہ کتابوں کا وجود ہم سے منواتا ہے تو اس کے لئے دلائل دیتا ہے رسولوں کو منواتا ہے تو اس کے لئے دلائل دیتا ہے۔ قیامت پر ایمان لانے کے لئے کہتا ہے تو اس کے لئے دلائل دیتا ہے غرض وہ کونسی بات ہے جس کے ماننے کا قرآن کریم ہمیں حکم دیتا ہے اور اس کے لئے دلائل نہیں دیتا۔ حضرت مسیح موعود نے تو مباحثہ آتھم میں یہ شرط پیش کی تھی کہ بچی کتاب وہی ہو سکتی ہے جو دعوئی بھی خود کرے اور دلیل بھی خود دے۔ شکر ہے کہ وہ مولوی صاحب جنہوں نے نبی کی مذکورہ بالا تعریف ایجاد کی ہے اس وقت نہ تھے ورنہ پادری صاحب کی بڑے زور سے تائید کرتے اور حضرت مسیح موعود سے کہتے که جناب اگر دلیل کا نام در میان میں آئے تو رسول کی رسالت باطل ہو جاتی ہے آپ کیوں ایسا مطالبہ کرتے ہیں جس سے بجائے صداقت ثابت ہونے کے رسالت باطل ہو جاتی ہے۔ افسوس کہ مولوی صاحب نے قرآن کریم پر بھی غور نہ کیا کہ وہ تو ہر ایک بات با دلا کل منواتا ہے نہ کہ بے دلیل ۔ اگر کہو کہ ہم نے تو لفظ حکم کا رکھا ہے عقائد کا تو یہاں ذکر ہی نہیں بلکہ صرف اعمال کا ذکر ہے تو میں کہتا ہوں کہ آپ نے مثال تو وفات مسیح کی دی ہے کیا وفات مسیح بھی کوئی کام ہے جس کا حکم مسیح موعود نے دیا ہے لیکن احکام کو بھی لو تو ان میں بھی دلائل ساتھ ہیں نماز زکوۃ ، روزہ ، حج سب احکام کے قرآن کریم نے دلائل دیتے ہیں اور ان کی خوبیاں بیان کی ہیں اگر کہو نہیں ہمارا یہ مطلب ہے کہ الہام الہی میں تو بے شک دلیل ہو لیکن وہ نبی کوئی دلیل نہ دے تو یہ خود ایک دعوئی ہو گا جس کا ثابت کرنا مشکل ہو جائے گا۔ اور چونکہ مولوی صاحب نبی نہیں ہیں اس لئے خود اپنے عقیدہ کے مطابق انہیں یہ دعوی قرآن کریم سے ثابت کرنا ہو گا کہ نبی وہی ہوتا ہے جو اپنے الہام کے علاوہ کوئی دلیل نہ دے۔ لیکن پھر یہ مشکل پیش آئے گی کہ رسول اللہ اللہ کے کلام میں بیسیوں امور کے متعلق دلائل موجود ہیں اب تو تحریر کا زمانہ ہے اس لئے مسیح موعود کی سب کتابیں موجود ہیں پہلے نبی بھی خاموش نہ رہتے تھے مگر ان کی باتیں محفوظ نہیں لیکن جس قدر ہیں ان سے دلائل کا پتہ چلتا ہے۔ احادیث میں بکثرت دلائل موجود ہیں۔ انجیل کو ہی دیکھ لو۔ اس میں حضرت مسیح کی طرف دلائل منسوب ہیں پھر میں کہتا ہوں دوسری کتب کی ضرورت نہیں خود قرآن کریم میں