انوارالعلوم (جلد 2) — Page 600
۶۰۰ حاشیہ , روحانی خزائن جلد نمبر ۱۸ صفحہ ۲۰۹ ) غرض فرق بتایا ہے تو صرف طريق حصول نبوت میں بتایا ہے۔ورنہ نبوت کے متعلق تو آپ فرماتے ہیں کہ کثرت اطلاع بر امور غیبیہ ہی کی وجہ سے پہلے لوگ نبی کہلائے۔(۴) ایک سوال یہ بھی کیا جاسکتا ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ نے نزول جبریل کو نبوت کے لئے شرط ٹهہرایا ہے اور اپنی نسبت جبریل کے نزول کا دعویٰ نہیں کیا۔سو یاد رہے کہ حضرت مسیح موعودؑ نے ایسا دعویٰ کیا ہے جیسا کہ آپ کا الہام ہے \" جاءنی ائل واختار واداراصبعہ وأشار ان وعد اللہ اتی فطوبی لمن وجد ورای الامراض تشاع والنفوس تضاع حاشیہ پر لکھتے ہیں اس جگہ آئل خداتعالی نے جبریل کا نام رکھا ہے اس لئے کہ بار بار رجوع کرتا ہے۔حقیقت اوگی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفر ۱۰۲ - ۱۰۷) پس خداتعالی ٰنے الہام میں آپ کے پاس جبریل کے آنے کی خبر دی ہے۔(۵) میں نے حقیقۃ النبوة میں یہ لکھا ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ کو کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع دی گئی اس کثرت سے کہ اس کی نظیر نبیوں میں ہی ملتی ہے پس آپ بموجب آیت لا يظهر علی غیبہ کے رسول ہوئے ممکن ہے کوئی شخص اس جگہ ازالہ اوہام کے اس حوالہ سے دھو کہ کھائے کہ: ’’اس عاجز کو رویا صالحہ اور مکاشفہ اور استجابت دعا اور الہامات صحیحہ صادقہ سے حصہ وافره نبیوں کے قریب قریب دیا گیا ہے۔‘‘ (ازالہ اوہام حصہ دوم ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۴۷۸) پس یاد رہے کہ اس سے یہ نتیجہ نکالنا درست نہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ کے الہامات او روحی پچھلے انبیاء کے برابر نہ تھی اس لئے وہ نبی نہ تھے کیونکہ ازالہ اوہام حضرت مسیح موعود کی ابتدائی کتاب ہے اور اس وقت تک گو آپ کثرت و حی کے مد عی تھے لیکن چونکہ اپنے آپ کو غیر نبی خیال کرتے تھے اس لئے ضرور تھا کہ اپنی وحی کو انبیاء کی وحی کے برابر نہ سمجھتے کیو نکہ اپنی وحی کو انبیاء کی وحی کے برابر بتانا خود دعوائے نبوۃ ہے پس یہ تحریر بھی اسی خیال کے بیان پر ہے جس کاذ کر اس کتاب میں کئی موقعہ پر ہو چکا ہے ہاں جب آپ کو معلوم ہواکہ آپ نبی ہیں تو اپنے الہامات کی کثرت کا اس حد تک اقرار کیا جو نبیوں کے الہاما ت میں ہو تی ہے۔پس اول تو اس سے کثرت وحی کا انکار ثابت نہیں اور اگر ہو تو زیادہ سے زیادہ ہیں کہہ سکتے ہیں کہ بجائے ابتدائے دعوی ٰکے جیسا کہ میں نے لکھا