انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 597 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 597

انوار العلوم جلد ۲ ۵۹۷ حقيقة النبوة (حصہ اول ) اور نبی کا متبع نہ ہو اور قرآن کریم کی مختلف آیات سے اور تاریخ سے یہی بات حق معلوم ہوتی ہے بلکہ اگر غور کرو تو خود اس آیت سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کیونکہ اس آیت میں یہ ذکر ہے کہ لوگوں پر نبی کی اتباع کرنی فرض ہے نہ یہ کہ وہ نبی بھی کسی اور نبی کا مطیع نہ ہو ۔ الَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ آمَنُوا بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَنْ يَتَحَا كَمُوا إِلَى الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُوا أَنْ يَكْفُرُوا بِهِ وَيُرِيدُ الشَّيْطَنُ أَنْ يُضِلُّهُمْ ضَلًا بَعِيدًا، وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا إِلَى مَا أَنْزَلَ اللَّهُ وَإِلَى الرَّسُولِ رَأَيْتَ الْمُنْفِقِينَ يَصَدُّونَ عَنكَ عَنكَ صُدُودًا فَكَيْفَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ بِمَا ابَتْهُمْ مُّصِيبَةٌ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ ثُمَّ جَاءُوكَ يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ إِنْ أَرْدْنَا إِلَّا إِحْسَانًا وَ تَوْفِيقًا أُولَئِكَ الَّذِينَ يَعْلَمُ اللَّهُ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَاعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ وَقُلْ لَهُمْ فِي أَنْفُسِهِمْ قَوْلًا بَلِيغَا وَمَا أَرْسَلْنَا ءِ مِنْ رَّسُولِ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللَّهِ وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جَاءَ وَكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللهَ تَوَّابًا رَّحِيمًا ، فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسليمًا۔ (النساء : ٦١-٦٦) (ترجمہ) کیا تو نے نہیں دیکھا ان لوگوں کی طرف جو دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں اس وحی الہی پر جو تجھ پر نازل کی گئی اور اس پر جو تجھ سے پہلے نازل کی گئی۔ چاہتے ہیں کہ فیصلہ لے جاویں بڑے سرکشوں کے پاس حالانکہ انہیں حکم دیا جا چکا ہے کہ ان کی نہ مانیں اور شیطان چاہتا ہے کہ انہیں بالکل گمراہ کر دے اور جب انہیں کہا جائے کہ اس وحی الہی کی طرف آؤ جو اللہ تعالٰی نے کہا نازل کی ہے اور رسول کی طرف آؤ تو تو منافقوں کو دیکھتا ہے کہ وہ تجھ سے بالکل رک جاتے ہیں پس ان کا کیا حال ہو گا۔ جبکہ پہنچے گی انہیں کوئی مصیبت بسبب اس کے جو وہ اپنے ہاتھوں سے کر چکے ہیں پھر تیرے پاس آئیں گے اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھاتے ہوئے کہ ہمارا ارادہ بجز بہتری چاہئے اور موافقت کرنے کے اور کچھ نہیں تھا۔ ان لوگوں کی بابت اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے پس تو ان سے اعراض کر اور انہیں نصیحت کر اور ان سے دل میں گھر کرنے والی گفتگو کر۔ نہیں بھیجا ہم نے کوئی رسول مگر اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے اور اگر یہ لوگ جبکہ انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تیرے پاس آکر اللہ تعالیٰ سے بخشش چاہتے اور رسول بھی ان کے لئے بخشش چاہتا تو اللہ تعالیٰ کو بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا رحمت کرنے والا پاتے پس تیرے رب