انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 595 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 595

انوار العلوم جلد ۲ ۵۹۵ حقيقة النبوة (حصہ اول) سوا اور کوئی شخص کثرت مکاملہ و مخاطبہ سے جو امور غیبیہ پر مشتمل ہو اور جو نبیوں کے لئے ضروری ہو بہرہ ور نہیں ہوا۔ اس حوالہ کے وہ معنی کیوں کئے جاتے ہیں جو حضرت مسیح موعود کی تکذیب کرتے ہوں بلکہ خودان بزرگوں کی تکذیب کرتے ہوں جن کی طرف حضرت مسیح موعود نے اشارہ فرمایا ہے چونکہ سائل نبوت کے معنے شریعت جدیدہ کالانا اور تجدید کے معنے دین میں نئے مسائل کا پیدا کر نا خیال کرتا تھا۔ اس کو ان بزرگوں کی مثال سے سمجھایا گیا جن کا وہ بھی قائل تھا ورنہ اس اسے سے یہ مراد نہ تھی کہ اس سے بڑھ کر آپ کا کوئی درجہ نہیں ۔ آپ تو صاف لکھتے ہیں کہ جس کثرت کا نام نبوت قرآن کریم نے رکھا ہے وہ سوائے میرے اور کسی ولی میں نہیں پائی گئی۔ پس محد ثیت کی نبوت کے اوپر ایک اور درجہ آپ کا ثابت ہے اور دیگر محدثین میں اگر کبھی اپنے آپ کو شامل کر بھی دیں تو اس کا صرف اس قدر مطلب ہو گا کہ آپ کو وہ درجہ بھی حاصل ہے جیسے ہمارے آنحضرت ا کو مومنوں اور حضرت موسیٰ کو محسنوں میں شامل کرنے سے یہ مطلب ہے کہ آپ ان لوگوں میں بھی شامل ہیں نہ یہ کہ اس سے بڑا درجہ آپ کو کوئی حاصل نہیں۔ (۲) دو سرا سوال یہ پیش کیا جاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود نے خود تحریر فرمادیا ہے کہ ہر ایک نبی مطاع ہوتا ہے نہ کہ مطیع اور چونکہ آپ مطیع تھے اس لئے آپ نبی ثابت نہ ہوئے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جیسا کہ میں کتاب حقیقۃ النبوۃ کے شروع میں لکھ آیا ہوں اور حضرت مسیح موعود کے اپنے حوالوں سے ثابت کر چکا ہوں آ۔ ہوں آپ ۱۹۰۰ء سے پہلے یہی خیال کرتے تھے کہ نبی کے لئے شریعت جدیدہ لانا یا بلا واسطہ نبی نہ ہونا اور کسی دوسرے نبی کا متبع اور مطیع نہ ہونا شرط ہے اور اس وقت تک اس آیت سے استدا استدلال کرتے رہے لیکن جب آپ کو ا کو انکشاف تام ہوا تو آپ نے اپنا خیال بدل دیا اور صاف لکھ دیا کہ نبی کے لئے یہ ضروری نہیں کہ دوسرے کا متبع نہ ہو۔ پس جبکہ آپ نے اس بات کو بھی تسلیم کیا ہے کہ نبوت کے متعلق آپ کا خیال بدلا ہے اور یہ بھی کہ آپ کے نزدیک نبی کے لئے دوسرے نبی کا تتبع نہ ہونا شرط نہیں تو اس سے سمجھ لینا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود نے مَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللَّهِ (النساء: ۱۵) کے خود ہی معنے فرمادیتے ہیں اور بتا دیا ہے کہ یہ شرط نبوت نہیں اور جبکہ قرآن کریم کی دوسری آیات صاف صاف بتا رہی ہیں کہ ایک نبی دوسرے نبی کا مطیع ہوتا ہے اور ہوتا رہا ہے چنانچہ ہمارے آنحضرت الی ہے : پہلے گو کل انبیاء بلا واسطہ نبوت پاتے تھے مگر پھر بھی بعض دوسرے انبیاء کے ماتحت کام کرتے تھے جیسے حضرت ہارون سلیمان یحیی زکریا علیہم السلام - پس ایسے صریح ثبوت اور مشاہدہ کی موجودگی میں قرآن کریم