انوارالعلوم (جلد 2) — Page 594
۵۹۴ جبکہ حضرت مسیح موعود اس بات کا اعلان کر چکے ہیں کہ مجھے ایک قسم کی نبوت ملی ہے جو میرے سوا اور کسی کو نہیں ملی اور قرآن کریم اور احادیث بھی صرف مسیح موعود کی رسالت پر گواہ ہیں اور تعریف ِنبوت پہلے مجددین پر صادق بھی نہیں آتی اس لئے اب ہم اس حوالہ کے سوائے اس کے اور معنی نہیں کر سکتے کہ آپ ایک نبوت میں تو پہلے مجددین کے ساتھ شامل ہیں جس طرح حضرت ﷺ بھی شامل تھے کیونکہ آپ کبھی مجدد تھے لیکن ایک نبوت میں ان سے الگ ہیں جس طرح رسول اللہ ﷺ الگ تھے۔ایک اور مثال سے بھی اس حوالہ کے معنے کھل جاتے ہیں اور وہ اس طرح کہ حضرت مسیح موعود نے وفات مسیح کے متعلق جواب دیتے ہوئے اپنے مخالفوں کو کہا ہے کہ اگر تم اس مسئلہ کی بناء پر مجھ پر کفر کا فتویٰ لگاتے ہو تو پھر فلاں فلاں گزشتہ علماء پر بھی یہ فتویٰ لگاؤ بلکہ یہ بھی لکھا ہے کہ پھر توکل معتزلیوں کو کافر کہنا پڑے گا۔اب کیا اس مشابہت کے یہ معنے ہیں کہ حضرت صاحب اپنے آپ کو معتزلی ظاہر کرتے تھے یا یہ کہ آپ مجدد نہ تھے بلکہ پہلے علماء کی طرح ایک عالم تھے لیکن ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ یہ مطلب آپ کا نہیں بلکہ یہ ہے کہ اس خیال میں وہ میرے متفق تھے گو اتفاق کی مختلف وجوہ تھیں معتزلی اس لئے متفق نہیں کہ اس سے شرک لازم آتا ہے یا یہ کہ آیات قرآنیہ کے خلاف ہے بلکہ ان کا مسیح کو وفات شدہ خیال کرنا اصل میں صرف عقل سے بالا باتوں کے انکار کی وجہ سے تھا اسی لئے وہ سب ایسی باتوں کی تاویل کرتے تھے اسی طرح حضرت مسیح موعود لکھتے ہیں کہ مثنوی رومی والے ابن عربی صاحب اور مجد د الف ثانی صاحب بھی اس بات کے قائل تھے کہ دروازہ نبوت کھلا ہے اور اس بات کی قائل تو حضرت عائشہؓ بھی تھیں۔تبھی تو وہ فرماتی ہیں کہ لا تقولوا لا نبی بعدہ پس اس کا یہ مطلب نہیں ہو سکتا کہ وہ سب لوگ نبی تھے نہ تو مثنوی والوں نے اپنے آپ کو نبی کہا ہے نہ ابن عربی صاحب اور مجدد صاحب نے اپنے آپ کو مبعوث نبی کہا ہے۔ہاں یہ عقیدہ انہوں نے ضرور ظاہر کیا ہے کہ مسیح موعو د نبی ہو گا اور وہ زمانہ نبوت کا زمانہ ہو گا۔بلکہ مجد و صاحب تو اپنے درجہ کی بلندی کی وجہ ہی یہ بتاتے ہیں کہ میں مہدی کے زمانہ کے قریب ہوں پس رسول اللہ اﷺکی شعاع نبوت جو اس پر پڑ رہی ہے اس کا اثر مجھ پر بھی پڑتا ہے اور اسی وجہ سے وہ پچھلے بزرگوں پر اپنے آپ کو فضیلت دیتے ہیں۔خلاصہ کلام یہ کہ اس حوالہ کو دوسرے حوالوں سے ملا کر معنے کرنے چاہئیں اور متشابہات کے ماتحت محکمات کو کرنا سخت گناہ ہے۔اس بات کا انکار بار بار ہوتے ہوئے کہ اس امت میں آپ کے