انوارالعلوم (جلد 2) — Page 591
انوار العلوم جلد ؟ ۵۹۱ حقيق النبوة (حصہ اول) اسے معلوم ہو جائے گا کہ قُلْ يَايُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا (الاعراف: ۱۵۹) نے آپ کو سب دنیا کی طرف مبعوث ہونے کی خصوصیت دے دی وصیت دے دی ہے اور اس خصوصیت وصیت نے آپ کو اور بلند مقام پر کھڑا کر دیا ہے اسی طرح کوئی اس خصوصیت کو دیکھ کر یہ نہیں کہہ سکتا کہ بس آپ ہی ہیں کیونکہ خاتم النبین کی خصوصیت نے آپ کا درجہ اور بھی بلند کر دیا ہے اسی طرح اگر حضرت مسیح موعود کبھی اپنے آپ کو دوسرے مجددین میں شامل کر دیں تو اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ بس آپ مجدد ہی ہیں ایسی ہی حماقت ہے جیسے کوئی شخص اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ کو دیکھ کر کہہ دے کہ بس رسول اللہ ا کو صرف مؤمن کا خطاب دیا گیا ہے اور کوئی نہیں بلکہ ممکن ہے کہ اگر یہ راستہ کھلا تو اس کے نتیجے بڑے خطرناک ہوں گے۔ حضرت سلیمان کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وکا كَفَرَ سَلَيْمَانُ سلیمان کا فرنہ تھا۔ اس سے اب یہ سمجھ لو کہ حضرت سلیمان کو اللہ تعالیٰ نے ایسے شخصوں میں شامل کیا ہے جو کافر نہ ہوں۔ اور نعوذ باللہ ان کو متقیوں میں بھی شامل کرنا جائز نہیں ایسے نادان کو یہ بھی تو سوچنا چاہئے کہ سلیمان علیہ السلام کو کہیں مؤمنوں سے اوپر بھی بتایا ہے کہ نہیں ؟ اگر کسی بلند درجہ کی طرف رہنمائی کی ہے تو سمجھو کہ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ کی حکمت اور ضرورت کے ماتحت کیا ہے اور اس سے یہ مراد نہیں کہ حضرت سلیمان نبی نہیں اسی طرح بعض جگہ پر نبیوں کی نسبت آتا ہے کہ وَكَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ ہم محسنوں کو اسی طرح جزاء دیتے ہیں اس لئے فلاں نبی سے بھی ایسا ہی سلوک کیا اب کوئی شخص کہہ دے کہ اللہ تعالیٰ نے تو حضرت موسیٰ یا حضرت یوسف کے انعامات کو محسن ہونے کے ماتحت رکھا ہے اور باقی سب محسنوں کے ساتھ شما شامل کیا ہے معلوم ہوا کہ آپ کا محسن ہونا اللہ تعالیٰ ثابت کرنا چاہتا ہے نہ کہ نبی ۔ مگر وہ نادان نہیں جانتا کہ لوگ موسیٰ علیہ السلام کو محسن کی جگہ ظالم خیال کرتے تھے پس ان کو سمجھانے کے لئے محسنوں کی مثال دی ۔ تاکہ ان کو معلوم ہو کہ یہ سلوک تو محسنوں سے ہوا کرتا ہے۔ پس سوال کرنے والے کی حیثیت کے مطابق جواب ہوتا ہے اور چھوٹے درجہ والوں کی مشابہت بتانے سے ہمیشہ یہ مراد نہیں ہوتی کہ بڑا درجہ حاصل نہیں بلکہ اگر دوسری جگہ عموم کی تخصیص کر دی گئی ہو تو تخصیص زیادہ معتبر ہو گی اور یہ ایک ایسا قاعدہ ہے جس سے کسی عقلمند کو انکار ہی نہیں ہو سکتا۔ ایک دفعہ میں لکھنو میں ندوۃ العلماء کا مدرسہ دیکھنے کے لئے گیا۔ وہاں ایک مولوی ندوة العلماء کے مدرس پٹھان میرے ملنے کو آئے اور آکر الہام پر گفتگو شروع کر دی کہ الہام کا سلسلہ تو اب بند ہے مرزا صاحب نبی کیونکر ہو گئے۔ میں نے اس کو سمجھایا کہ قرآن کریم میں الہام و وحی کی جو