انوارالعلوم (جلد 2) — Page 585
۵۸۵ نے بھی یہی عقیدہ ظاہر کیا پس کیا سب کو کافر کہو گے۔یاد رکھو یہ سلسلہ نبوت قیامت تک جاری رہے گا‘‘ مجدّد کی ضرورتاس پر اس سرحدی نے سوال کیا کہ دین میں کیانقص رہ گیا تھا جس کی تکمیل کے لئے آپ تشریف لائے۔فرمایا: ’’احکام میں کوئی نقص نہیں۔نماز ، قبلہ ،زکوٰة کلمہ وہی ہے۔کچھ مدت کے بعد ان احکام کی بجا آوری میں سستی پڑ جاتی ہے بہت سے لوگ توحید سے غافل ہو جاتے ہیں تو وہ اپنی طرف سے ایک بندے کو مبعوث کرتا ہے جو لوگوں کو از سر نو شریعت پر قائم کرتا ہے سو برس تک سستی واقع ہو جاتی ہے۔ایک لاکھ کے قریب تو مسلمان مرتد ہو چکا ہے۔ابھی آپ کے نزدیک کسی کی ضرورت نہیں۔لوگ قرآن چھوڑتے جاتے ہیں۔سنت نبویؐ سے کچھ غرض نہیں اپنی رسوم کو اپنا دین قرار دے لیا ہے اور ابھی آپ کے نزدیک کسی کی ضرورت نہیں‘‘ اس پر اس شخص نے کہا کہ اس وقت تو سب کافر ہوں گے کوئی تیس چالیس مومن رہ جائیں گئے فرمایا : ’’کیا مہدی کے ساتھ جو مل کر لڑائی کریں گے وہ سب کافر ہی ہوں گے۔۔۔۔۔۔انسان جب فسق و فجور میں پڑتا ہے تو کافر کا حکم رکھتا ہے۔اگر ہر صدی میر مجدد کی ضرورت نہ تھی تو بقول آپ کےقرآن کریم اور علماء کافی تھے۔تو پھر نبیﷺ پر اعتراض آتا ہے۔حج کرنے والے حج کو جاتے ہیں زکوٰۃ بھی دیتے ہیں۔روزے بھی رکھتے ہیں۔پھر بھی آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ سو برس کے بعد مجدد آئے گا۔مخالفین بھی اس بات کے قائل ہیں۔پس اگر میرے وقت میں ضرورت نہ تھی تو پیشگوئی باطل جاتی ہے۔ظاہری حالت پر ہی نہیں جانا چاہیے۔غیب کا حال تو اللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں‘‘ بدر جلد ۷ نمبر ۲۳ جون ۱۹۰۸ء اس ڈائری سے یہ نتیجہ نکالا جاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود نبی تھے کیونکہ آپ نے اپنے آپ کو مجّد دین سے تشبیہ دی ہے اور مثنوی رومی کا ایک مصرعہ مخالف کے سامنے پیش کیا ہے کہ ع آں نبی وقت باشد اے مرید۔اسی طرح محی الدین صاحب ابن عربی اور مجدد الف ثانی ساحب کے عقائد کی طرف بھی اسے توجہ دلائی ہے جس سے معلوم ہوا کہ آپ ویسے ہی نبی تھے جیسے اور مجد دین۔اس کا پہلا جواب تو یہ ہے کہ میں اس سے پہلے قطعی اور یقینی طور پر یہ ثابت کر چکا ہوں کہ نبی کی جو تعریف ہے وہ حضرت مسیح موعودؑ پر صادق آتی ہے اور قرآن کریم لغت عرب محاورہ انبیائے