انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 41 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 41

انوار العلوم جلد ۲ ۴۱ منصب خلافت جس کی زندگی کا ثبوت اس زمانہ میں بھی ملتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نازل ہوئے ۔ غرض وہاں بھی سلسلہ کا پیغام پہنچایا جاوے اور جہاں ہم سر دست واعظ نہیں بھیج سکتے وہاں ٹریکٹ اور چھوٹے چھوٹے رسالے چھپوا کر تقسیم کریں ۔ اشتہاری تبلیغ کا جوش چونکہ جھے تبلغ کیلئے خاص در پی رہی ہے اس دو پسی کے ساتھ عجیب عجیب ولولے اور جوش پیدا ہوتے رہے ہیں۔ اور اس رہے۔ تبلیغی عشق نے عجیب عجیب ترکیبیں میرے دماغ میں پیدا کی ہیں۔ ایک بار خیال آیا کہ جس طرح پر اشتہاری تاجر اخبارات میں اپنا اشتہار دیتے ہیں میں بھی چین کے اخبارات میں ایک اشتہار تبلیغ سلسلہ کادوں اور اس کی اُجرت دے دوں تا کہ ایک خاص عرصہ تک وہ اشتہار چھپتا رہے۔ مثلاً یہی اشتہار کہ مسیح موعود آ گیا بڑی موٹی قلم سے ! اسے اس عنوان سے ایک اشتہار چھپتا رہے غرض میں اس جوش اور عشق کا نقشہ الفاظ میں نہیں کھینچ سکتا جو اس مقصد کے لئے مجھے دیا گیا ہے یہ ایک نمونہ ہے اس جوش کے پورا کرنے کا۔ ورنہ یہ ایک لطیفہ ہی ہے اس تجویز کے ساتھ ہی مجھے بے اختیار ہنسی آئی کہ یہ اشتہاری تبلیغ بھی عجیب ہوگی۔ مگر یہ کوئی نئی بات نہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی تبلیغ سلسلہ کیلئے عجیب عجیب خیال آتے تھے اور وہ دن رات اسی فکر میں رہتے تھے کہ یہ پیغام دنیا کے ہر کونے میں پہنچ جاوے ۔ ایک مرتبہ آپ نے تجویز کی کہ ہماری جماعت کا لباس ہی الگ ہو تا کہ ہر شخص بجائے خود ایک تبلیغ ہو سکے اور دوستوں کو ایک دوسرے کی نا واقعی میں شناخت آسان ہو۔ اس پر مختلف تجویزیں ہوتی رہیں۔ میں خیال کرتا ہوں شاید اسی بناء پر لکھنو کے ایک دوست نے اپنی ٹوپی پر احمدی لکھوا لیا۔ غرض تبلیغ ہوا اور کونہ کونہ میں ہو کوئی جگہ باقی نہ رہے یہ جوش یہ تجویزیں اور کوشش ہماری نہیں یہ حضرت صاحب ہی کی ہیں اور سب کچھ انہیں کا ہے۔ ہمارا تو کچھ بھی نہیں ۔ مبلغ کہاں سے آویں جب ہم چاہتے ہیں کہ دنیا کے ہر گوشہ اور ہر قوم اور ہر زبان میں ہماری تبلیغ ہو تو دوسرا سوال جو قد رتا پیدا ہوتا ہے یہ ؟ نہ ہوگا کہ تبلیغ کے لئے مبلغ کہاں سے آویں ؟ یہ وہ سوال ہے جس نے ہمیشہ میرے دل کو دکھ میں رکھا ہے خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی یہ تڑپ رکھتے تھے کہ اخلاص کے ساتھ تبلیغ کرنے والے ملیں ۔ حضرت خلیفہ اصبح کی بھی یہ آرزو رہی ۔ اسی خواہش نے اسی جگہ اسی مسجد میں مدرسہ احمدیہ کی بنیاد مجھ سے رکھوائی اور اسی مسجد میں بڑے زور سے اس کی مخالفت کی گئی لیکن میری کوئی ذاتی خواہش XXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXX