انوارالعلوم (جلد 2) — Page 579
انوار العلوم جلد ۲ ۵۷۹ حقيقة النبوة (حصہ اول) رکھتا ہے اس لئے اس کی بروزی نبوت اور رسالت سے مہر ختمیت نہیں ٹوٹتی پس آیت میں اس کو ایک وجود منفی کی طرح رہنے دیا اور اس کے عوض میں آنحضرت اللہ کو پیش کر دیا ہے اور اسی طرح آیت إِنَّا أَعْطَيْنكَ الْكَوْثَرَ میں ایک بروزی وجود کا وعدہ دیا گیا جس کے زمانہ میں کوثر ظہور میں آئے گا۔ یعنی دینی برکات کے چشمے بہہ نکلیں گے اور بکثرت دنیا میں سچے اہل اسلام ہو جائیں گے اس آیت میں بھی ظاہری اولاد کی ضرورت کو نظر تحقیر سے دیکھا اور بروزی اولاد کی پیشگوئی کی گئی اور گو خدا نے مجھے یہ شرف بخشا ہے کہ میں اسرائیلی بھی ہوں اور فاطمی بھی۔ اور دونوں خونوں سے حصہ رکھتا ہوں لیکن میں روحانیت کی نسبت کو مقدم رکھتا ہوں جو بروزی نسبت ہے اب اس تمام تحریر سے مطلب میرا یہ ہے کہ جاہل مخالف میری نسبت الزام لگاتے ہیں کہ یہ شخص نبی یا رسول ہونے کا دعوی کرتا ہے مجھے ایسا کوئی دعوی نہیں میں اس طور سے جو وہ خیال کرتے ہیں نہ نبی ہوں نہ رسول ہوں۔ ہاں میں اس طور سے نبی اور رسول ہوں جس طور سے ابھی میں نے بیان کیا ہے پس جو شخص میرے پر شرارت سے یہ الزام لگاتا ہے جو دعویٰ نبوت اور رسالت کا کرتے ہیں وہ جھوٹا اور ناپاک خیال ہے مجھے بروزی صورت نے نبی اور رسول بنایا ہے اور اسی بناء پر خدا نے بار بار میرا نام نبی اللہ اور رسول اللہ رکھا ہے مگر بروزی صورت میں۔ میرا نفس درمیان نہیں ہے۔ بلکہ محمد مصطفیٰ الی ہے اس لحاظ سے میرا نام محمد اور احمد ہوا۔ پس نبوت اور رسالت کسی دوسرے کے پاس نہیں گئی۔ محمد کی چیز محمد کے پاس ہی رہی۔ علیہ الصلوٰۃ والسلام خاکسار میرزاغلام احمد از قادیان ۱۵ نومبر ۱۹۰۱ء