انوارالعلوم (جلد 2) — Page 578
انوار العلوم جلد ۲ ۵۷۸ حقيقة النبوة (حصہ اول) ہزار دفعہ دنیا میں بروزی رنگ میں آجائیں اور بروزی رنگ میں اور کمالات کے ساتھ اپنی نبوت کا بھی اظہار کریں۔ اور یہ بروز خداتعالی کی طرف سے ایک قرار یافتہ عہد تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِم اور انبیاء کو اپنے بروز پر غیرت نہیں ہوتی۔ کیونکہ وہ انہی کی صورت اور انہی کا نقش ہے لیکن دوسرے پر ضرور غیرت ہوتی ہے دیکھو حضرت موسیٰ نے معراج کی رات جب دیکھا کہ آنحضرت اللہ ان کے مقام سے آگے نکل گئے تو کیونکر رو رو کر اپنی غیرت ظاہر کی۔ تو پھر جس حالت میں خدا تو فرمائے کہ تیرے بعد کوئی اور نبی نہیں آئے گا۔ اور پھر اپنے فرمودہ کے بر خلاف عیسی کو بھیج دے تو پھر کس قدر یہ فعل آنحضرت اللہ کی دل آزاری کا موجب ہو گا۔ غرض بروزی رنگ کی نبوت سے ختم نبوت میں فرق نہیں آتا۔ اور نہ مہر ٹوٹتی ہے لیکن کسی دوسرے نبی کے آنے سے اسلام کی بیخ کنی ہو جاتی ہے اور آنحضرت ا کی اس میں سخت اہانت ہے کہ عظیم الشان کام رجال کشی کا عیسی سے ہوا۔ نہ آنحضرت ا سے اور آیت كريم والكِنْ رَسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّن نعوذ باللہ اس سے جھوٹی ٹھرتی ہے اور اس آیت میں ایک پیشگوئی مخفی ہے اور وہ یہ کہ اب نبوت پر قیامت تک مہر لگ گئی ہے اور بجز بروزی وجود کے جو خود آنحضرت ا کا وجود ہے کسی میں یہ طاقت نہیں جو کھے کھلے طور پر نبیوں کی طرح خدا سے کوئی علم غیب پارے اور چونکہ وہ بروز محمدی جو قدیم سے موعود تھا وہ میں ہوں۔ اس لئے بروزی رنگ کی نبوت مجھے عطا کی گئی۔ اور اس نبوت کے مقابل پر اب تمام دنیا بے دست رہا ہے کیونکہ نبوت پر مہر ہے ایک بروز محمدی جمیع کمالات محمدیہ کے ساتھ آخری زمانہ کے لئے مقدر تھا سو وہ ظاہر ہو گیا اب بجز اس کھڑکی کے اور کوئی کھڑ کی نبوت کے چشمہ سے پانی لینے کے لئے باقی نہیں۔ خلاصہ کلام یہ کہ بروزی طور کی نبوت اور رسالت سے ختمیت کی مہر نہیں ٹوٹتی اور حضرت عیسیٰ کے نزول کا خیال جو مستلزم تکذیب آیت وَلكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّنَ۔ ہے وہ ختمیت کی مہر کو توڑتا ہے اور اس فضول اور خلاف عقیدہ کا تو قرآن شریف میں نشان نہیں اور کیونکر ہو سکتا کہ وہ آیت ممدوحہ بالا کے صریح بر خلاف ہے لیکن ایک بروزی نبی اور رسول کا آنا قرآن شریف سے ثابت ہو رہا ہے جیسا کہ آیت واخَرِينَ مِنْهُمْ سے ظاہر ہے اس آیت میں ایک لطافت بیان یہ ہے کہ اس گروہ کا ذکر تو اس میں کیا گیا جو صحابہ میں سے ٹھہرائے گئے لیکن اس جگہ اس مورد بروز کا بتصریح ذکر نہیں کیا یعنی مسیح موعود کا جس کے ذریعہ سے وہ لوگ صحابہ ٹھہرے اور صحابہ کی طرح زیر تربیت آنحضرت ا سمجھے گئے اس ترک ذکر سے یہ اشارہ مطلوب ہے کہ مورد بروز حکم نفی وجود کا