انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 572 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 572

انوار العلوم جلد ۲ ۵۷۲ حقيقة النبوة (حصہ اول) ضمیمہ نمبرا نقل مطابق اصل بسم الله الرحمن الرحیم محمدہ و نصلی علی رسوله الكريم ایک غلطی کا ازالہ ہماری جماعت میں سے بعض صاحب جو ہمارے دعوئی اور دلائل سے کم واقفیت رکھتے ہیں جن کو نہ بغور کتابیں دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اور نہ وہ ایک معقول مدت تک صحبت میں رہ کر اپنے معلومات کی تکمیل کر سکے وہ بعض حالات میں مخالفین کے کسی اعتراض پر ایسا جواب دیتے ہیں کہ جو سراسر واقعہ کے خلاف ہوتا ہے اس لئے باوجود اہل حق ہونے کے ان کو ندامت اٹھانی پڑتی ہے چنانچہ چند روز ہوئے ہیں کہ ایک صاحب پر ایک مخالف کی طرف سے یہ اعتراض پیش ہوا کہ جس سے تم نے بیعت کی ہے وہ نبی اور رسول ہونے کا دعوی کرتا ہے اور اس کا جواب محض انکار کے الفاظ سے دیا گیا۔ حالانکہ ایسا جواب صحیح نہیں ہے ۔ حق یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے اس میں ایسے الفاظ رسول اور مرسل اور نبی کے موجود ہیں نہ ایک دفعہ بلکہ صدہا دفعہ پھر کیونکر یہ جواب صحیح ہو سکتا ہے کہ ایسے الفاظ موجود نہیں ہیں۔ بلکہ اس وقت تو پہلے زمانہ کی نسبت بھی بہت تصریح اور توضیح سے یہ الفاظ موجود ہیں اور براہین احمدیہ میں بھی جس کو طبع ہوئے بائیس برس ہوئے۔ یہ الفاظ کچھ تھوڑے نہیں ہیں۔ چنانچہ وہ مکالمات الہیہ جو براہین احمدیہ میں شائع ہو ہو چکے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ وحی اللہ ہے هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلَّه اس میں صاف طور پر اس عاجز کو رسول کر کے پکارا گیا ہے۔ پھر اس کے بعد اسی کتاب میں میری نسبت یہ وحی اللہ ہے جَرِيٌّ اللهِ فِي حلَلِ الأَنْبِيَاءِ یعنی خدا کار سول نبیوں کے حلوں میں پھر اسی کتاب میں اس مکالمہ کے قریب ہی یہ وحی اللہ ہے مُحَمَّدُر سُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاء بَيْنَهُمْ اس وحی الہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی پھر یہ وحی اللہ ہے جو صفحہ ۵۵۷ براہین میں درج ہے ” دنیا میں ایک نذیر آیا “ اس کی دوسری قراءت یہ ہے کہ دنیا میں ایک نبی آیا ۔ اسی طرح براہین احمدیہ میں اور کئی جگہ رسول کے لفظ سے اس عاجز کو یاد کیا مه براین احمد یه چهار خصص روحانی خزائن جلد نمبر ۱ حاشیه صفحه ۵۹۳ عه البضا صفحه ۶۰۷