انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 40 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 40

۴۰ رہتا ہے۔اس کا سبب یہی ہے کہ وہ لوگ اسلام کی اصل حقیقت سے واقف نہیں ہیں اور نہ ان کے سامنے اصل حقیقت کو پیش کیا گیا ہے۔ان لوگوں کا حق ہے کہ ان کو حقیقی اسلام دکھلایا جائے جو خدا تعالیٰ نے ہم پر ظاہر کیا ہے۔وہ امتیازی باتیں جو خدا تعالیٰ نے اس سلسلہ میں رکھی ہیں وہ ان پر ظاہر کرنی چاہئیں اور خدا تعالیٰ کے مکالمات اور مخاطبات کا سلسلہ ان کے سامنے پیش کرنا چاہیے اور ان سب باتوں کو جمع کیا جائے جن کے ساتھ اسلام کی عزت اِس زمانہ میں وابستہ ہے۔ان تمام دلائل کو ایک جگہ جمع کیا جائے جو اسلام کی صداقت کے واسطے خدا تعالیٰ نے ہم کو سمجھائے ہیں۔اس طرح ایک جامع کتاب تیار ہو جائے تو امید ہے کہ اس سے ان لوگوں کو بہت فائدہ حاصل ہو‘‘۔اب بتاؤ کہ جب مسیح موعود علیہ السلام نے خود یورپ میں تبلیغ اسلام کا طریق بتا دیا ہے تو پھر کسی نئے طریق اختیار کرنے کی کیا وجہ ہے۔افسوس ہے جن کو اس کام کے لائق سمجھ کر ہدایت کی گئی تھی وہی اَور راہ اختیار کر رہے ہیں۔یہ غلط ہے کہ لوگ وہاں سلسلہ کی باتیں سننے کو تیار نہیں۔ایک دوست کا خط آیا ہے کہ لوگ سلسلہ کی باتیں سننے کو تیار ہیں کیونکہ ایسی جماعتیں وہاں پائی جاتی ہیں جو مسیح کی آمد کی اِنہی دنوں میں منتظر ہیں۔ایسا ہی ریویو کو پڑھ کر بعض خطوط آتے ہیں۔سویڈن اور انگلستان سے بھی آتے ہیں۔ایک شخص نے مسیح کے کشمیر آنے کا مضمون پڑھ کر لکھا ہے کہ اسے الگ چھپوایا جائے اور دو ہزار مجھے بھیجا جائے میں اسے شائع کروں گا یہ ایک جرمن یا انگریز کا خط ہے۔ایسی سعادت مند روحیں ہیں جو سننے کو موجود ہیں مگر ضرورت ہے سنانے والوں کی۔میں یورپ میں تبلیغ کے سوال پر آج تک خاموش رہا اِس کی یہ وجہ نہ تھی کہ میں اس سوال کا فیصلہ نہیں کر سکتا تھا، نہیں بلکہ میں نے احتیاط سے کام لیا کہ جو لوگ وہاں گئے ہیں وہ وہاں کے حالات کا بہترین علم رکھتے ہیں میں چونکہ وہاں نہیں گیا اس لئے مجھے خاموش رہنا چاہیے لیکن جو لوگ وہاں گئے ان میں سے بعض نے لکھا ہے کہ حضرت صاحب کا ذکر لوگ سنتے ہیں اور ہماری تبلیغ میں حضرت صاحب کا ذکر ہونا چاہیے۔اس کے علاوہ خود حضرت صاحب نے یورپ میں تبلیغ کے لئے یہی فرمایا کہ اس سلسلہ کو پیش کیا جاوے۔اور جو کشف آپ نے دیکھا تھا اس کے بھی یہی معنی کئے کہ میری تحریریں وہاں پہنچیں گی۔ان تمام امور پر غور کر کے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ممالکِ غیر اور یورپ میں بھی اس سلسلہ کی اشاعت ہو اور ہمارے مبلّغ وہاں جا کر انہیں بتائیں کہ تمہارا مذہب مردہ ہے اس میں زندگی کی روح نہیں ہے زندہ مذہب صرف اسلام ہے