انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 567 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 567

انوار العلوم جلد ۲ ۵۶۷ حقيقة النبوة (حصہ اول) پیدا ہیں پس بعد کی جماعتیں اگر افراط میں مبتلاء ہوتی ہیں تو تفریط کا بھی شکار ہوئی ہیں ہاں ایک نظیر آپ کو اور دے دیتا ہوں کہ رسول الله الل ﷺ کی زندگی میں ایک قلیل گروہ ایسا بھی تھا جس نے رسول اللہ اللہ کے درجہ میں تفریط سے کام لیا۔ چنانچہ ایک شخص نے آپ کے منہ پر کہہ دیا کہ حضور عدل سے تقسیم کریں مطلب یہ کہ آپ عدل نہیں کرتے اور دوسرے لوگوں کی طرح بتلائے خیانت ہو سکتے ہیں۔ نعوذ باللہ من ذالک۔ اور جب بعض صحابہ اس کے مارنے پر تیار ہوئے تو آنحضرت ا نے فرمایا کہ اسے جانے دو اس کی ہم خیال ایک اور جماعت اس امت میں سے ا ہونے والی ہے چنانچہ خوارج کا گروہ جو الحکم اللہ جیسا سچا کلمہ کہہ کر اس سے باط ں سے باطل مراد لیتا تھا اس پیشگوئی کے ماتحت پیدا ہوا۔ غرض قلیل جماعتوں میں افراط و تفریط کے تو نمونے مہ موجود ہیں لیکن اس جماعت کے اکثر حصہ کے گمراہ ہونے کی نظیر نہیں ملتی جو نبی کا صحبت یافتہ ہو پس مقام خوف ہے۔ میری غرض ان سوالوں کے جواب دینے سے یہ تھی کہ بعض باتیں بظاہر وزنی معلوم ہوتی ہیں لیکن در حقیقت بہت بودی ہوتی ہیں ان کی بجائے معقول باتوں کی طرف توجہ کرنی چاہئے ورنہ انسان گمراہ ہو جاتا ہے۔ نبوت کا مسئلہ ایک نہایت نازک مسئلہ ہے میں سب ایسے لوگوں سے جو اللہ تعالیٰ کا خوف اپنے دل میں رکھتے ہیں درخواست کرتا ہوں کہ اس میدان میں پھونک پھونک کر قدم رکھیں کیونکہ مسیح موعود پر ہاتھ ڈالنا در حقیقت خدائے تعالیٰ کا مقابلہ کرنا ہے اگر ایسا شخص آگ میں کود پڑتا یا شیر کے منہ میں اپنا ہاتھ دے دیتا تو اس کے لئے بہتر ہو تا بہ نسبت اس کے کہ مسیح موعود پر ہاتھ ڈالتا۔ آپ لوگوں نے اس کتاب کو پڑھ کر معلوم کر لیا ہو گا کہ نبوت مسیح موعود سے انکار کرنا در حقیقت اسلام کی کمزوری اور آنحضرت اللہ کے فیضان کی کمی بلکہ آپ کا دنیا کے لئے ایک عذاب ہونے کا اقرار کرنا ہے نعوذ باللہ من ذالک۔ پس یہ کبھی خیال مت کرو کہ تم مسیح موعود کی نبوت کا انکار کر کے در حقیقت مسیح موعود کی نبوت کا انکار کرتے ہو بلکہ جو شخص ایسا کرتا ہے وہ خود انحضرت ا کی شان کم کرتا ہے اور آپ کے وجود کو ایک چاند گرہن یا سورج گرہن کے طور پر قرار دیتا ہے جس نے نبوت کے فیضان سے دنیا کو روک دیا ۔ اب کوئی لاکھ سرمارے اور اللہ تعالیٰ ۔ کی محبت میں گداز ہو جائے آپ کی اطاعت میں اپنے آپ کو فنا کر دے یہ انعام جو پہلے لوگوں کو ملا کرتا تھا اب نہیں ملتا۔ اے مسلمانو! اے احمد یو !! خدارا اس عقیدہ کے خطرناک نتیجہ پر غور کرو۔ اور دیکھو کہ جو شخص مسیح موعود کی نبوت کا انکار کرتا ہے وہ در حقیقت کشتی اسلام پر کلہاڑے کی ایک خطرناک ضرب مارتا ہے وہ اس نادان کی طرح ہے جس نے اپنے آقا کے منہ پر مکھی بیٹھی دیکھ