انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 565 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 565

۵۶۵ ہے کہ مسلمان ایک وقت یہودو عیسائیوں کے مشابہ ہو جائیں گے۔اس لئے ہمیں خوف کرنا چاہئے تا ایسا نہ ہو کہ ضالین میں داخل ہو جائیں۔میں ان کی اس نصیحت کی قدر کرتا ہوں کیونکہ كلمة الحکمة ضالة المؤمن اخذھا حیث وجدھا یعنی حکمت کی بات مؤمن کی گم شدہ چیز ہے جہاں سے ملے اسے لے لے۔پس میں اس نصیحت کی قدر کرتا ہوں اور ہر ایک مومن کا فرض خيال کرتا ہوں کہ وہ ضالّ بننے سے بچے۔لیکن یہ بات میری سمجھ میں نہیں آئی کہ انہوں نے نصاریٰ کا مصداق ہمیں کس طرح سمجھ لیا کیونکہ اول تو نصاریٰ کا فتنہ اس وقت موجود ہے ہزاروں مسلمان عیسائی ہو چکے ہیں۔اور ہو رہے ہیں پس جبکہ نصاریٰ میں شامل ہونے والے لوگ موجود ہیں اور پادریوں کا فتنہ بھی خطرناک طور سے موجود ہے کہ ہزاروں لاکھوں مسلمانوں کو عیسائی کر رہے ہیں تو ایک نیا گروہ عیسائیوں کا بنانے کی کیاوجہ پیش آگئی دوسرے خود حضرت مسیح موعود اپنی کتاب خطبہ الہامیہ میں تحریر فرماتے ہیں کہ لیکن جو لوگ ضالین کے وارث ہوئے ان میں بعض نصاریٰ کی خو خصلت اور شعار کو دوست رکھتے ہیں اور اس طرف جھک گئے ہیں لباس میں کوٹوں میں ٹوپیوں اور جوتیوں میں اور طرز زندگی میں اور باقی سب خصال میں ان کی نقل کرتے ہیں اور جو شخص اس طرز کے خلاف کرے اس پر ہنستے ہیں اور عیسائی عورتوں سے شادیاں کرتے ہیں اور اسی پر ان کادل آتا ہے اور بعض ان میں سے جو ضالین ہو گئے ہیں وہ ہیں کہ جو فلسفہ نصاریٰ کی طرف جھک گئے ہیں اور دینی امور میں غفلت سے کام لیتے ہیں اور بہت ہی نامناسب باتیں ان کے منہ سے نکلتی رہتی ہیں اور اللہ کے دین کی پرواہ نہیں کرتے۔اور بعض ضالین میں شامل ہونے والے وہ ہیں کہ انہوں نے ضلالت کو کمال تک پہنچادیا ہے اور اسلام سے مرتد ہو گئے ہیں اور بے وقوفی سے اس کے دشمن بن گئے ہیں (ترجمہ عبارت خطبہ الہامیہ صفحہ ۱۰۸،۱۰۷) اس عبارت سے ظاہر ہے کہ ضالیّن سے مشابہ ہونے والا گروہ بھی حضرت مسیح موعودؑ نے اپنے مخالفوں کو ہی قرار دیا ہے مگر تعجب ہے کہ آپ کو اپنی وفات تک اس قدر بھی علم نہ ہوا کہ جس ضالین کے گروہ کی اصلاح کے لئے میں بھیجا گیا ہوں اسے میں خود تیار کر رہا ہوں۔اور جن کو ضالین سمجھ کر ان کی اصلاح کی فکر میں ہوں وہ اصل میں المغضوب علیہم کا گروہ ہے۔غرض جبکہ خود حضرت مسیح موعودؑجو مغضوب علیہم اور ضالین کی اصلاح کے لئے بھیجے گئے تھے مغضوب علیم اور ضالین کے گروہ کی تعیین کر چکے ہیں تو اور کسی کا کیا حق ہے کہ اپنے مخالف خیالات کو دیکھ کر رسول اللہ اﷺکی ایک حدیث کا غلط استعمال کرے۔آپ لاہور میں ایسے ؎ * ترمذی ابواب العلم باب ماجاء فی فضل الفقه على العبادة (مفهوما)