انوارالعلوم (جلد 2) — Page 564
انوار العلوم جلد ۲ ۵۶۴ حقيقة النبوة (حصہ اول) اب میں اس کتاب کو ختم کرتا ہوں۔ اور تمام حق پسندوں سے درخواست کرتا ہوں کہ جو باتیں انہوں نے اس کتاب میں پڑھی ہیں۔ ان کے مطالب پر اچھی طرح غور کریں اور سوچیں۔ کہ حق کس طرف ہے تا ایسا نہ ہو کہ آنحضرت ﷺ کی کسر شان کے مرتکب ہوں۔ اور مسیح موعود کے فیصلہ کے رد کرنے والے بہنیں بے شک ہر ایک جماعت کو اس بات کا لحاظ رکھنا چاہئے کہ وہ بے جا غلو سے بچے۔ اور افراط سے اپنا دامن پاک رکھے۔ لیکن میرے دوستو! تفریط سے بچنا بھی مؤمن کا فرض ہے۔ اور حق پر قائم رہنا اس پر واجب ہے۔ کیا یہ ضروری ہے کہ غلو کے خوف سے ہم بزرگوں کی ہتک شروع کر دیں۔ یہود پر اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کے لئے لعنت کی ہے۔ اور اس لئے کہ انہوں نے حق کو ماننے سے انکار کر دیا۔ پس یہ شان مؤمنانہ کے خلاف ہے کہ وہ صرف اس ڈر سے کہ کہیں غلو نہ ہو جائے ۔ حق کے اظہار سے بچے ۔ قرآن کریم تو ہمیں عدل کی تعلیم دیتا ہے ۔ پس عدل پر قائم رہو۔ اور نہ کسی بات کو حد سے بڑھاؤ اور نہ حد سے گھٹاؤ کہ دونوں باتیں بری ہیں۔ وہ جو غلو کرتا ہے اور ایک نبی کو خدا بنا دیتا ہے وہ بھی ضال ہے ۔ لیکن جو خدا تعالیٰ کے ایک رسول کی ہتک کرتا ہے اور اسے اس کے اصلی درجہ سے گرا دیتا ہے مغضوب علیہم گروہ سے اسے بھی مشابہت پیدا ہو گئی ہے اور ان دونوں مقاموں میں سے کوئی مقام بھی نہیں کہ جہاں مومن کھڑا رہنا پسند کرے۔ خوب یاد رکھو کہ حق کی پیروی انسان کو نجات دلا سکتی ہے کیا ہم ہر صداقت کو اس لئے چھوڑ سکتے ہیں کہ کہیں غلو نہ ہو جائے غلو تو حد سے بڑھا دینے کو کہتے ہیں۔ پس کسی بات کو غلو قرار دینے سے پہلے یہ دیکھنا چاہئے ۔ کہ آیا وہ حق کے خلاف ہے۔ اگر وہ دلائل قاطعہ سے حق ثابت ہو جائے۔ تو پھر غلو کے کیا معنے ہوئے؟ کسی بات کو اس کے اصل درجہ تک ماننا تو عین ثواب راب ہو ہوتا ہے۔ نہ کہ غلو ۔ پس مسیح موعود کی ہتک اس جوش میں نہ کرو کہ تم غلو سے دور جا رہے ہو ۔ کیونکہ جنہوں نے مسیح کی ہتک کی۔ وہ آج تک سکھ اور چین کی زندگی نہیں پاسکے ۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ افراط اور تفریط دونوں برے ہیں اور یہ بالکل درست ہے لیکن افسوس تو یہ ہے کہ وہ یہ بات کہتے ہوئے تفریط سے کام لیتے ہیں اور مسیح موعود کا درجہ گھٹا رہے ہیں۔ اور اسی طرح قابل الزام ہیں۔ جس طرح بعض وہ لوگ جو اطراء کی طرف راغب ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ ہم لوگ وسط میں ہیں۔ اور ایک طرف اگر آنحضرت ا کی عظمت و جلال کے قائل اور آپ کے خاتم النبین ماننے کو جزو ایمان قرار دیتے ہیں۔ تو دوسری طرف مسیح موعود کی نبوت کا انکار کر کے ختم نبوت کی کسر شان کرنے سے محفوظ ہیں۔ جناب مولوی صاحب اپنے رسالہ میں لکھتے ہیں۔ کہ حدیث میں آتا