انوارالعلوم (جلد 2) — Page 563
انوار العلوم جلد ؟ ۵۶۳ حقيقة النبوة (حصہ اول) دیا گیا ہے چنانچہ فتح اسلام جو تو ضیح مرام کا پہلا حصہ ہے۔ اس کے اوپر بھی الہامی لکھا ہوا ہے اور نیچے لکھا ہے۔ ” باہتمام شیخ نور احمد مالک مطبع ریاض ہند امر تسر میں طبع ہو کر ہدایت عام و تبلیغ پیام اور اتمام حجت کی غرض سے با مرو ازن الہی شائع کیا گیا ۔ " اس عبارت سے ہر ایک شخص اچھی طرح سمجھ سکتا ہے۔ کہ آیا کتاب الہامی ہے یا اپنے دعوی کا شائع کرنا الہامی ہے ۔ اگر یہ کتاب الہامی تھی۔ تو حضرت مسیح موعود نے اس کتاب پر یہ کیوں لکھایا کہ یہ آپ کی تالیف کردہ ہے۔ کیا آپ نے اپنے کسی الہام کے متعلق بھی لکھا ہے۔ کہ یہ میرا تألیف کردہ ہے اس کتاب کو الہامی قرار دینا تو حضرت مسیح موعود پر ایک خطرناک حملہ ہے۔ کیونکہ اس کے یہ معنے ہوں گے ۔ کہ حضرت مسیح موعود اپنے الهام خود بنایا کرتے تھے۔ یہ کتاب چونکہ اللہ تعالی کے اس حکم کی بناء پر لکھی گئی۔ کہ اپنا دعویٰ شائع کرو۔ اس لئے اس پر الہامی لکھ دیا گیا۔ اور نیچے وجہ بھی بتا دی گئی۔ پھر اسے الہامی کہنے سے کیا مراد ہو سکتی ہے۔ شاید کوئی کہہ دے کہ حضرت مسیح موعود نے اپنے ایک خطبہ کو بھی تو الہامی کہا ہے۔ سو اس کا جواب یہ ہے کہ اس خطبہ کا حال بالکل مختلف ہے۔ اس کا واقعہ یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے کہا کہ تم فلاں بات لوگوں کو سنا دو۔ اور اسے الہامی قرار دے دیا گیا بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کے لئے ایک نشان مقرر فرمایا تھا کہ آپ ایک خطبہ عربی میں پڑھیں۔ اور تائید ایزدی سے آپ کو وسیع مطالب اور فصیح عبارت پر قدرت دی جائے گی۔ پس وہ خطبہ نشانوں میں سے ایک نشان ہے۔ اور ہمیشہ حضرت مسیح موعود اسے اپنا نشان قرار دیتے رہے ہیں۔ لیکن کیا کبھی توضیح مرام کی نسبت بھی لکھا ہے کہ یہ کتاب میرے نشانات سے ایک نشان ہے پھر اس خطبہ کا نام اس الہام کو یاد دلانے کے لئے اور اس نشان کے تازہ رکھنے کے لئے خطبہ الہامیہ رکھا گیا۔ اور ہم جب اسے خطبہ الہامیہ کہہ کر پکارتے ہیں۔ تو اس سے یہ مراد ہوتی ہے ۔ کہ وہ کتاب جس کا نام خطبہ الہامیہ ہے۔ نہ یہ کہ وہ الہامی ہے۔ لیکن توضیح مرام کے نام میں تو الہام کا لفظ نہیں۔ کہ آپ اس لفظ کے لکھنے پر مجبور ہو گئے ۔ حضرت صاحب نے کبھی اس کتاب کو الہامی کتاب یا الہامی رسالہ لکھا ہو تو اسے پیش کریں۔ یا کبھی کوئی اس کی عبارت بطور الهام پیش کی ہو تو اس کی سند دیں۔ علاوہ از میں حضرت مسیح موعود نے ۱۸۹۲ء میں جو اشتہار دیا ہے۔ اور جس کی بعض عبارات اس سے پہلے ازیں کئی جگہ نقل ہو چکی ہیں۔ اس میں لکھا ہے کہ تو ضیح مرام وغیرہ رسالہ میں جہاں لفظ جزوی نبی وغیرہ آیا ہے۔ وہ سادگی سے لکھا گیا ہے اب بتائیے کہ کیا الہام کی طرف بھی سادگی کا لفظ منسوب ہو سکتا ہے۔ نعوذ باللہ من ذلک۔