انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 562 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 562

۵۶۲ خاتمہ کتاب گو یہ کتاب صرف جناب مولوی محمد علی صاحب کے رسالہ کے جواب کے متعلق نہیں رہی بلکہ میں نے اس میں نبوت کے متعلقہ تمام ضروری امور پر بحث کردی ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو بیسیوں مسائل پر اس میں بحث کر دی گئی ہے۔لیکن چونکہ میں جس وقت اس کتاب کو لکھنے بیٹھا ہوں۔اس وقت جناب مولوی صاحب کاہی رسالہ میرے مدنظر تھا۔اور اسی کی تحریک سے یہ کتاب لکھنے کا موقعہ مجھے ملا ہے۔اس لئے بار بار جناب مولوی صاحب کا ذکر در میان میں آجاتا ہے۔اور میں مناسب سمجھتا ہوں کہ وہ تمام باتیں جن کازذکر آپ نے اپنے رسالہ میں کیا ہے ان میں سے بھی کوئی بات باہر رہ نہ جائے گی اس وقت تک میں آپ کے رسالہ میں جس قدر قابل جواب با تیں تھیں سب کا جواب دے چکا ہوں۔لیکن ایک بات ابھی باقی ہے جس کا جواب خاتمہ میں دیتا ہوں۔مولوی صاحب اپنے ٹریکرٹ ’’القول الفصل کی ایک غلطی کا ازالہ‘‘ صفحہ ۹ میں تحریر فرماتے ہیں۔’’حضرت مسیح موعودنے الہامی رسالہ توضیح مرام میں یہ تو صاف لکھ دیا ہے‘‘ جناب مولوی صاحب نے اس رسالہ کو الہامی جس لئے لکھا ہے یہ تو ظاہری ہے۔بات یہ ہے کہ وہ الہامی کے لفظ سے یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ اس میں چو نکہ جو کچھ لکھا گیا ہے وہ الہامی ہے اس لئے وہ منسوخ کیونکر ہو سکتا ہے لیکن اول تو اس حوالہ سے جو انہوں نے تو ضیح مرام سے نقل کیا ہے۔ان کا کوئی مطلب ثابت نہیں ہو تا۔کیونکہ جیسا کہ میں اس سے پہلے ثابت کر چکا ہوں۔حضرت مسیح موعود کادعو یٰ شروع سے لے کر آخر تک ایک ہی رہا ہے صرف نام میں تغیر ہؤا ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ توضیح مرام کتاب ساری کی ساری ہر گز الہامی نہیں۔یہ بات مولوی صاحب کو کسی نے غلط بتائی ہے۔کیونکہ میں یہ بدظنی نہیں کر سکتا۔کہ انہوں نے جان بوجھ کر ایک غلط بات لکھی ہو۔اصل بات یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود کو اس بات کا علم ہوا تھا۔کہ وہ اپنا دعوائے مسیحیت شائع کریں۔اور اللہ تعالی ٰکے فضل کا اظہار کریں۔اس پر حضرت مسیح موعودنے رسالہ فتح اسلام اور توضیح مرام لکھے اور شائع کئے۔اور یہ دونوں رسالے الگ نہیں بلکہ در حقیقت ایک ہی کتاب ہے جیسا کہ توضیح مرام کے سرورق سے ظاہر ہے جس پر حصہ دوم فتح اسلام لکھا ہوا ہے۔اور اسی وجہ سے اس کتاب کے سرورق پر الہامی لکھا گیا ہے۔اور اس کا اظہار سرورق کے نیچے کے حصے میں کر۔