انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 561 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 561

انوار العلوم جلد ۲ ۵۶۱ حقيقة النبوة (حصہ اول) زیادہ ہو گئی ہے جو پہلے تھی۔ اور یہ بات رسول اللہ ا کی عظمت کو ظاہر کرنے کے لئے ایک زبر دست ثبوت ہے۔ جس کا کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ ممکن ہے کہ کوئی شخص اس جگہ یہ سوال کرے کہ جب ختم نبوت سے نبوت کی شان ایسی بڑھ گئی۔ کہ رسول اللہ ا کا کامل مظہر ہی نبی ہو سکتا ہے ۔ تو اب بتاؤ کہ رسول اللہ ا کا وجود باجود تو ہزاروں سالوں کے بعد پیدا ہوا۔ پھر مسیح موعود جسے تم آپ ا کا مظہر اتم بتاتے ہو ۔ اتنی جلدی کس طرح پیدا ہو گیا ؟ سو اس کا یہ جواب ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے زور سے بلا کسی اور انسان کے سہارے کے اس درجہ کو پہنچے جو خدا تعالیٰ نے آپ کو دیا ہے۔ لیکن حضرت مسیح موعود صرف اپنی ذاتی استعداد کے ساتھ اس رتبہ کو نہیں پہنچے۔ بلکہ آپ کی ذاتی استعداد کے ساتھ فیضان محمدی مل گیا۔ اور ایک تو مسیح موعود کی فطری طاقتوں نے اس کو اوپر اٹھایا۔ اور دوسرے رسول اللہ ا نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے بلند کیا۔ اس لئے پہلے کی نسبت جلد ایسا کامل انسان ظاہر ہوا۔ اور تیرہ سو سال کے اندر ایک ایسے کامل انسان کا ظہور بھی آنحضرت ا الا کے قوت فیضان کے کمال کا ایک زبردست ثبوت ہے۔